.

چین مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے انتھک کوششیں کرے گا: صدر شی

چین اس سال اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک امن سمپوزیم کی میزبانی کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چینی صدر شی جین پنگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے انھک کوششیں کرے گا۔ایک چینی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ اس سال کے آخر میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان ایک امن سمپوزیم کی بھی میزبانی کرے گا۔

صدر شی نے فلسطینی صدر محمود عباس سے بیجنگ میں ملاقات میں چین کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے دیرینہ تنازع کے دوریاستی حل اور 1967ء کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اظہار کیا ہے جس کا دارالحکومت بیت المقدس شہر ہوگا۔

چین کے نائب وزیر خارجہ ژانگ منگ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ صدر شی نے بند کمرے کی اس ملاقات میں فلسطینی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چین سہ فریقی بات چیت کے لیے ایک میکانزم قائم کرے گا اور تنازع کے حل میں مدد دینے کے لیے اس سال کے آخر میں ایک امن سمپوزیم کا انعقاد کرے گا۔

انھوں نے ’’فلسطینی عوام کو چین کے حقیقی سچے دوست ،شراکت دار اور بھائی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک چین ، فلسطین دو طرفہ تعلقات کو فروغ دے گا اور مشرقِ وسطیٰ امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے انتھک کوششیں کرے گا‘‘۔

صدر محمود عباس کا چین کا یہ چوتھا دورہ ہے۔انھوں نے صدر شی سے ملاقات کے بعد اس امید کا اظہار کیا ہے کہ چین مشرقِ وسطیٰ امن عمل میں زیادہ نمایاں کردارادا کرے گا۔

واضح رہے کہ چین مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تیل کا ایک بڑا خریدار ملک ہے لیکن اس کا خطے میں جاری تنازعات میں اس سے پہلے کوئی فعال کردار نہیں تھا ۔ اس نے گذشتہ سال سے خطے میں جاری بحرانوں کے ضمن میں اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کردی ہیں اور اس نے شامی تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی میزبانی کی بھی پیش کش کی تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے مارچ میں بیجنگ کے دورے کے موقع پر صدر شی سے ملاقات کی تھی۔چینی صدر نے ان سے بھی بات چیت میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جلد سے جلد قیام امن کی ضرورت پر زوردیا تھا۔

نیتن یاہو نے اس موقع پر کہا تھا کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کے امور میں چین کے زیادہ کردار کا متمنی ہے۔ یاد رہے کہ چین نے اسرائیل کے ساتھ 1992ء میں سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اسرائیل میں چین کی سرمایہ کاری کا حجم چھے ارب ڈالرز سے بڑھ چکا ہے جبکہ اسرائیلی ساختہ ٹیکنالوجیز کو چین بھر میں استعمال کیا جاتا ہے۔