.

یمن میں عرب اتحاد سے متعلق قطری وزیر دفاع کے بیان پر حوثی مدح سرا

قطر کو یمن میں عرب اتحاد میں شمولیت کے لیے مجبور کیا گیا تھا: خالد العطیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کی نام نہاد انقلابی کمیٹیوں کے سربراہ محمد علی الحوثی نے قطری وزیر دفاع خالد العطیہ کے دوحہ کی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی حمایت میں یمن میں بروئے کار عرب اتحاد میں شمولیت سے متعلق بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

قطری وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ’’قطر کو یمن میں عرب اتحاد میں شمولیت کے لیے مجبور کیا گیا تھا‘‘۔قطر نے یہ پہلی مرتبہ کھلے عام تسلیم کیا ہے کہ وہ یمن میں قانونی حکومت کی بحالی اور باغیوں کی سرکوبی کے لیے تشکیل پانے والے اتحاد میں شامل نہیں ہونا چاہتا تھا۔

خالد العطیہ نے ترکی کے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ قطر کبھی یمن کے اندر نہیں گیا ہے اور ہم تمام مشن کے دوران میں سعودی سرحد پر موجود رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’(متحدہ عرب امارات ، بحرین ، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ) بحران کے آغاز پر ہمیں یہ کہا گیا تھا کہ سعودی سرحد سے واپس چلے جائیں اور ہم نے ایسے ہی کیا تھا اور ہماری فوج واپس آگئی تھی‘‘۔

محمد علی الحوثی نے اپنے فیس بُک صفحے پر خالد العطیہ کے اس بیان کو سراہتے ہوئے ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور’’ یہ امید ظاہر کی ہے کہ قطری اور بھی اس طرح کے بیان جاری کریں گے‘‘۔واضح رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد کی قیادت نے پانچ جون کو قطر کے بائیکاٹ کے آغاز کے وقت اس سے یہ کہا تھا کہ وہ یمن میں قانونی حکومت کی حمایت میں اتحاد میں اپنی شرکت ختم کردے۔