’خمینی کے حکم پر30 ہزار قیدیوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا‘

سابق ایرانی وزیر کا قیدیوں کے قتل عام میں آیت اللہ خمینی کا دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سابق انٹیلی جنس وزیر علی فلاحیان نے ایک بار پھر ولایت فقیہ کے انقلاب کے بانی آیت اللہ علی خمینی کے حکم پرانقلاب مخالف ہزاروں افراد کوموت کے گھاٹ اتارے جانے کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خمینی کے حکم پر جیلوں میں ڈالے گئے تیس ہزار افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا تھا۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں علی فلاحیان نے کہا کہ حکومت اورانقلاب مخالف ہزاروں قیدیوں کا قتل عام بانی انقلاب آیت اللہ علی خمینی کےحکم پر کیا گیا۔ ماورائے عدالت ہلاک کیے گئے قیدیوں میں مجاھدین خلق اور تمام اپوزیشن گروپوں کے لوگ شامل تھے۔

سابق انٹیلی جنس وزیر نے بتایا کہ سابق پراسیکیوٹر جنرل آیت اللہ موسوی تبریزی نے خمینی کا حکم ملنے کے بعد کہا تھا کہ قیدیوں کے ٹرائل اور ان کے خلاف مقدمات چلانے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ امام خمینی کا حکم تھا کہ شیعہ مذہبی انقلاب کی مخالفت کرنے والے بچ کر نہیں جانے چاہئیں۔

سابق وزیر کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خمینی کے احکامات پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا۔ جیلوں میں ڈالے گئے ہزاروں قیدیوں کو موت کےگھاٹ اتارا گیا۔ قیدیوں کو اجتماعی طور پر پھانسیاں دی گئیں۔ ان میں سنہ 1988ء کے واقعات سے پہلے گرفتارکیے گئے افراد اور بعد کے قیدی بھی شامل ہیں۔

علی فلاحیان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب 1988ء کے موسم گرما کے دوران ایران میں 30 ہزار قیدیوں کو موت کےگھاٹ اتارے جانے میں ملوث ایرانی عہدیداروں کے خلاف مقدمات چلانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ انسانی حقوق کی مقامی اور عالمی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ سنہ 1988ء میں ایرانی جیلوں میں قید تیس ہزار اپوزیشن کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں ملوث عہدیداروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں علی فلاحیان نے کہا کہ اگر گرفتار ملزمان کو شرعی عدالت میں پیش کیا جاتا تو انہیں سزائے موت دیئے جانے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ اس لیے آیت اللہ خمینی کے ایک حکم کو قیدیوں سے جان چھڑانے کے لیے کافی سمجھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام قیدی منافق، جنگجو اور واجب القتل تھے۔ ان کے قتل کے لیے عدالتوں سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں