.

امریکا انسداد دہشت گردی سمجھوتے کے تحت قطر میں دو افسر تعینات کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا قطر کے ساتھ دہشت گردی کے انسداد اور اس کے لیے رقوم کی روک تھام سے متعلق سمجھوتے کے تحت دوحہ میں پراسیکیوٹر جنرل کے دفترمیں اپنے دو سرکاری افسر تعینات کرے گا۔

امریکا اور قطر کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کے لیے مالی وسائل کی روک تھام سے متعلق گذشتہ ہفتے ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے دوحہ کے دورے کے موقع پر اس سمجھوتے پر دست خط کیے گئے تھے اور اس کا مقصد قطر اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی لانا تھا۔

اس سمجھوتے میں قطر کی مستقبل میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوششوں اور دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کی روک تھام کے معاملے کو طے کرنے کے لیے رہ نما خاکا وضع کیا گیا ہے لیکن اس سمجھوتے کی ابھی تک کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے ۔البتہ خطے میں موجود ایک مغربی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ اس دستاویز میں قطر سے اس سال کے اختتام تک بعض اقدامات کا تقاضا کیا گیا ہے اور ان ہی کے تحت امریکا کے محکمہ انصاف کے دو افسروں کو قطر کے جنرل پراسیکیوشن دفتر میں تعینات کیا جائے گا۔

اس عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ’’ دونوں امریکی افسر قطری حکام کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور وہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے افراد کا تعیّن کریں گے‘‘۔

اس سمجھوتے کے تحت دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد پر سفری پابندیاں عاید کی جائیں گی ،ان کی نگرانی کی جائے گی اور ان کے اثاثے منجمد کردیے جائیں گے۔ اس میں دہشت گردی کی بین الاقوامی تعریف سے اتفاق کیا گیا ہے اور کسی خاص گروپ کا اس میں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

ایک قطری عہدہ دار کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے جنرل پراسیکیوٹر امریکی عہدہ داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے لیکن ابھی اس تعاون کی تفصیل طے نہیں کی گئی ہے۔امریکی عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک مضبوط سمجھوتا ہے اور اس سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ چار عرب ممالک سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے پانچ جون کو قطر کے ساتھ ہر طرح کے سیاسی،سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔ان چاروں ممالک نے انسٹھ افراد اور بارہ تنظیموں پر مشتمل ایک فہرست جاری کی تھی اور ان پر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا ۔ان سب افراد اور اداروں کا تعلق قطر سے ہے۔ان میں مصری نژاد عالم دین اور اخوان کے روحانی پیشوا علامہ یوسف القرضاوی اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے والے قطر کے ایک خیراتی ادارے کا نام بھی شامل تھا۔