.

دفاعی معاہدے، امریکی خوشنودی کے حصول کی قطری کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خبر رساں ادارے ’بلومبرگ‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر کردار ادا نہیں کررہا ہے۔ واشنگٹن کے ساتھ فوجی تعاون کے اربوں ڈالر کے معاہدوں کا مقصد محض امریکا کی خوشنودی کا حصول ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکا کا اتحادی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چار عرب ملکوں کے بائیکاٹ کو غیر موثر بنانے اور امریکی حمایت کے حصول کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ دفاعی معاہدوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ قطر نے کئی یورپی ملکوں بالخصوص برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں خطیر رقوم کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں جب سے چار عرب ملکوں نے قطر کا سفارتی بائیکاٹ کیا دوحہ نے عجلت میں امریکا کے ساتھ 12 ارب ڈالر کا ایک دفاعی معاہدہ کرنے کا اعلان کردیا جس کے تحت امریکا سے 36 ایف 15 لڑاکا طیاروں کی خریداری شامل ہے۔

بلومبرگ خبر رساں ادارے کے مطابق قطرنے امریکا میں ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھی اربوں ڈالرخرچ کرنے کا پلان تیار کر رکھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قطر نے امریکا میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی ہے جن میں سے 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری محدود مدت کے منصوبوں کے لیے ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قطر کی طرف سے امریکا میں سرمایہ کاری اور امریکی حکومت کے ساتھ معاہدوں کی کوششیں جاری ہیں مگر جب تک قطر اپنے پڑوسی عرب ملکوں کے ساتھ جاری سفارتی تنازع کو ختم نہیں کرتا امریکی کمپنیاں قطر سے سرمایہ کاری کے معاہدوں میں دلچسپی نہیں لیں گے۔