.

’دوحہ نے مطالبات پورے نہ کیے تو سلامتی کونسل میں جائیں گے‘

دوحہ کے سامنے پیش کردہ مطالبات میں تبدیلی کا تاثر غلط: المعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفیر عبداللہ المعلمی نے کہا ہے کہ خلیجی ریاست قطر کو بائیکاٹ کرنے والے چارعرب ممالک کی طرف سے پیش کردہ تمام مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوحہ کے سامنے تعلقات کی بحالی کے لیے پیش کیے گئے مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

العربیہ چینل کے برادر ٹی وی الحدث سے بات کرتے ہوئے المعلمی نے کہا کہ سعودی عرب قطر کو پیش کیے گئے مطالبات سے دست بردار نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اہم بات یہ ہے کہ قطر قاہرہ میں چار عرب ملکوں کے ہونے والے اجلاس کے بعد ان چھ بنیادی اصولوں کی پاسداری کرے جو اس اجلاس میں پیش کیے گئے ہیں۔

المعلمی نے مزید کہا کہ قطر کو چار عرب ملکوں کے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ قطر کو باہر سے مدد مل رہی ہے اور وہ بیرونی امداد سے تقویت پکڑ رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعودی سفیر نے کہا کہ قطر کا محاصرہ نہیں صرف سفارتی بائیکات کیا گیا ہے۔ اگر قطر کی طرف سے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے تو بائیکاٹ کرنے والے ممالک اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جاسکتے ہیں۔