.

ایران سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ بنیادی تبدیلیوں کے خواہاں ہیں:پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی CIA کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت تہران میں حکم راں نظام سے نمٹنے اور خطے میں ایرانی توسیع کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا کی پالیسیوں کے حوالے سے بنیادی تبدیلیاں کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔

کولوراڈو میں ایسپن سکیورٹی فورم کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پومپیو نے باور کرایا کہ ایران دنیا بھر میں امریکی مفادات کے لیے سب سے خطرناک ریاست ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس میں پہنچنے کے بعد ایران کی متنازع سرگرمیوں کے خلاف امریکی بیانات کا ٹیمپو تیز ہو گیا ہے برخلاف سابق امریکی صدر باراک اوباما کے جن پر بعض امریکی ذمے داران نے الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے نیوکلیئر معاہدے پر دستخط اور ایران کی منجمد مالی رقوم کو آزاد کر کے خطے میں ایرانی رسوخ کے لیے راہ ہموار کر دی۔

پومپیو کے مطابق ایرانی نظام کے حوالے سے امریکی پالیسی میں ہونے والی تبدیلی واشنگٹن کی جانب سے نئی حکمت عملی پر عمل درامد سے واضح ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے آغاز کر دیا ہے اور ابتدائی اقدامات کے طور پر صدر ٹرمپ نے خطے کے ممالک کا اتحاد قائم کرنا شروع کیا ہے تا کہ ایرانی توسیع کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ طور پر میدان صاف ہو سکے"۔

امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی سرگرمیاں ، یمن کی صورت حال اور عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کا وجود اس بات کی مثالیں ہیں کہ ایران کس طرح خطے کی قیادت کا ارادہ رکھتا ہے۔

پومپیو نے باور کرایا کہ ایران اس وقت شام میں اپنے رسوخ کو بڑھانے کے واسطے کوشاں ہے اور عراقی سرحد کو عبور کر کے اس کو شام کے ساتھ مربوط کرنا چاہتا ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد کو ایرانیوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا تصور بھی محال ہے کہ بشار اقتدار میں رہے اور شام میں استحکام پیدا ہو اور امریکی مفادات پورے ہوں۔

پومپیو کے مطابق ایران اور داعش ہی شام میں امریکی کے دشمن ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس ایجنسی "سی آئی اے" کے ڈائریکٹر نے گزشتہ جولائی میں عراق میں ایرانی رسوخ ، تہران کے حوثیوں کے ساتھ تعاون اور لبنان میں حزب اللہ تنظیم کے واسطے سپورٹ سے خبردار کیا تھا۔ ساتھ ہی باور کرایا گیا تھا کہ گزشتہ چھ یا سات برسوں کے دوران ایرانی رسوخ میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔