.

عراق۔ سعودیہ کا انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کا معاہدہ

دونوں ملکوں کےدرمیان سرحدی گذرگاہ کھولنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور سعودی عرب کی قیادت نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان انسداد دہشت گردی کے تحت خفیہ معلومات کے تبادلے کا ایک معاہدہ طے پایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے چیف آف اسٹاف جنرل عبد الرحمان صالح البنیان اور ان کے عراقی ہم منصب جنرل عثمان الغانمی نے بغداد میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

جنرل الغانمی نے کہا کہ دونوں ملکوں نے انسداد دہشت گردی کے تحت باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان آمد ورفت کے لیے خشکی کے راستے سے استعمال ہونے والی ’عرعر‘ گذرگاہ کو کھولنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عراقی عازمین حج کو مناسک حج کی ادائی کے لیے سعودی عرب کے سفر میں سہولت فراہم کی جاسکے۔

اس موقع پر سعودی چیف آف اسٹاف جنرل صالح البنیان نے دونوں ملکوں کے درمیان طے پائے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کےمعاہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کی سرحدوں کی سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور عراق کے درمیان 814 کلو میٹر طویل مشترکہ سرحد میں بیشتر علاقہ صحرا پر مشتمل ہے جس کی مانیٹرنگ ایک مشکل عمل ہے۔