.

قطر کا انسداد دہشت گردی قانون میں ترمیم کا اعلان

بائیکاٹ کرنے والے ممالک کو دوحہ کا بالواسطہ جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی حکومت نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک کی طرف سے پیش کردہ مطالبات پر بالواسطہ جواب دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی نےجمعرات کو ایک شاہی فرمان جاری کیا تھا جس میں ملک میں انسداد دہشت گردی قانون میں ترمیم، دہشت گردوں کی تعریف اور اس سے متعلق دیگر امور میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا ہے۔ قانون میں ترامیم کے بعد حکومتی فرمان سرکاری گزٹ میں شایع کیا جائے گا جس کے بعد اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دہشت گردی سے متعلق قانون میں ترامیم کے ضمن میں دہشت گردوں کی تعریف، جرائم، مجرمانہ سرگرمیوں، دہشت گردی میں ملوث اداروں کا تعین، دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے کے اقدامات، دہشت گردی میں ملوث مقامی افراد اور اداروں کی فہرستوں کی از سرنو تدوین، نئے اداروں اور افراد کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کرنا، ان اقدامات کے نتائج اور متاثرہ فریقوں کو اپنے دفاع میں اپیل کا حق جسیے اقدامات شامل ہوں گے۔

خیال رہے کہ قطر کی طرف سے دہشت گردی سے متعلق قانون میں ترمیم کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حال ہی میں دوحہ اور واشنگٹن کے درمیان انسداد دہشت گردی کا ایک معاہدہ بھی طے پایا ہے۔ خبر رساں ادارے’رائیٹرز‘ کے مطابق آئندہ چند ایام کے دوران قطری پراسیکیوٹر کے دفتر میں مستقل اسٹاف تعینات کیا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دوحہ نے معاہدے کے تحت بعض مشتبہ افراد کی گرفتاری اور مانیٹرنگ کا عمل سخت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔