.

لیبیا کی فوج کے کمانڈر نے 20 داعشیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں فوج کی اسپیشل فورسز کے ایک کمانڈر کیپٹن محمود الورفلی نے چند روز قبل داعش تنظیم کے کئی ارکان کو گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ واقعے کی وڈیو دیکھنے والے بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ یہ منظر دو برس قبل مصری قِبطیوں کو موت کی نیند سلانے کے منظر سے مشابہت رکھتا ہے۔

وڈیو کلپ میں داعش کے 20 ارکان کو ہلاک کرنے کی کارروائی دکھائی گئی جنہیں چار صفوں میں کھڑا کیا گیا تھا۔ تمام افراد نے نارنجی رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے جب کہ ان سب کے چہروں کو کالے کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ اس دوران لیبیا کی فوج کے چند اہل کار اپنے کمانڈر الورفلی کے ساتھ نمودار ہوئے۔ الورفلی نے ان فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ داعشی شدت پسندوں کو گولیاں مار کر موت کی نیند سلا دیں۔

الورفلی نے اپنی اس عسکری عدالت کو لگانے کا جواز پیش کرتے ہوئے بتایا کہ "یہ کارروائی ان افراد کے لیبیا کے فوجی اہل کاروں اور عام شہریوں کے قتل ، اغوا ، اذیت رسانی ، دھماکوں سے اڑانے اور ذبح کیے جانے میں ملوث ہونے کے ثبوت ملنے کے بعد کی جا رہی ہے"۔

بہت سے لبیائی باشندوں نے الورفلی کے اس عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ لیبیائی شہریوں کے خلاف داعش کی وحشیانہ کارروائیوں کا قانونی انتقامی رد عمل ہے۔

دوسری جانب بعض دیگر افراد کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کے کچھ افراد داعش تنظیم کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئے اور اب وہ ایسے کام کر رہے ہیں جو داعشیوں سے کسی طور مختلف نہیں۔

کیپٹن محمود الورفلی (43 سالہ) کا نام کچھ عرصہ قبل بعض وڈیو کلپوں کے منظر عام پر آنے کے بعد مشہور ہوا۔ ان وڈیوز میں داعش تنظیم کے ارکان کو الورفلی اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے جاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔