.

امریکی پروفیسر نے سرطان میں مبتلا جان مکین کو جنگی مجرم قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں سین ڈیاگو اسٹیٹ یونی ورسٹی کے پروفیسر کو امریکی سینیٹر جان مکین سے متعلق تبصرے کے سبب سوشل میڈیا پر شدید رد عمل کا سامنا ہے۔ امریکی نیوز چینل "فوکس" کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی تعلقات اور بین الاقوامی قانون کے ماہر پروفیسر جوناتھن گراؤپارٹ نے سرطان کے مرض میں مبتلا سینیٹر کو "جنگی مجرم" قرار دیا تھا۔

جوناتھن نے گزشتہ جمعے کو فیس بک پر کہا تھا کہ "میں جان مکین کے دماغی سرطان میں مبتلا ہونے کے بعد ان کے لیے نیک تمناؤں کے اظہار میں الجھن محسوس کر رہا ہوں اور میں سوچ رہا ہوں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے"۔ واضح رہے کہ اسی روز اعلان کیا گیا تھا کہ جان مکین دماغ کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ جوناتھن کا مزید کہنا تھا کہ "مکین ایک جنگی مجرم ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر ایک ایسی شخصیت جو سیاسی میدان میں خوف ناک افعال کو سراہتی رہی اور صحت عامہ کی مد میں ریاست پر پڑنے والے بوجھ سے بھی خبردار کرتی رہی۔

ادھر بہت سے حلقوں نے جان مکین کی بیماری سے متعلق جوناتھن گراؤپارٹ کے تبصرے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن میں سین ڈیاگو یونی ورسٹی کے متعدد طلبہ بھی شامل ہیں۔

نکتہ چینی کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ "پروفیسر جوناتھن نے مکین کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ قطعا غیر مناسب ہے۔ آپ کسی شخص کے ساتھ سیاسی ، اخلاقی یا نظریاتی طور پر اختلاف کر سکتے ہیں مگر کسی شخص کے لیے ضرر کی چاہت نہیں کر سکتے"۔

یونی ورسٹی کے طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے جاری بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ "گراؤپارٹ کی جانب سے مک کین کے لیے جس عدم احترام کا اظہار کیا گیا ہے وہ نا قابل قبول ہے۔ یونی ورسٹی انتظامیہ کو اس سے درگزر نہیں کرنا چاہیے"۔

یونی وریسٹی ترجمان نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ "بحیثیت ایک عام ادارے کے ہم طلبہ یا اساتذہ کے ذاتی بیانات کا ریکارڈ نہیں رکھ سکتے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ یونی ورسٹی ضمنی طور پر کسی مخصوص نقطہ نظر پر رضامندی رکھتی ہے"۔

دوسری جانب بعض حلقوں نے یونی ورسٹی پروفیسر کی جانب سے مکین کے بارے میں کیے گئے تبصرے کا دفاع کیا ہے۔ ان حلقوں نے باور کرایا ہے کہ گراؤپارٹ کو اپنی رائے کے اظہار کا پورا حق ہے۔