.

امریکی کشتی کی ایران کے چھوٹے بحری جہاز کی جانب انتباہی فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک جنگی بحری کشتی کا خلیج عرب میں ایران کے ایک چھوٹے بحری جہاز سے منگل کے روز ٹاکرا ہوا ہے اور اس نے ایرانی جہاز کے نزدیک آنے پر اس کی جانب انتباہی فائرنگ کی ہے۔

امریکا کے ایک دفاعی عہدہ دار نے بتایا ہے کہ بحرین میں موجود امریکا کے پانچویں بحری بیڑے میں شامل یو ایس ایس تھنڈر بولٹ امریکا اور دوسرے اتحادیوں کے ساتھ بحری جنگی مشق میں شریک تھی۔اس دوران ایران کی ایک گشتی کشتی تیزی سے اس کی جانب آ گئی تھی۔اس کو پہلے ریڈیو کالز اور سائرن کے ذریعے انتباہ کیا گیا اور روکنے کی کوشش کی گئی لیکن جب وہ تھنڈر بولٹ سے صرف ڈیڑھ سو گز دور رہ گئی تو امریکی سیلروں نے اس کی جانب فائرنگ کی ہے۔

اس امریکی عہدے دار کے بہ قول فائرنگ کے بعد ایرانی کشتی پانی میں بے حس وحرکت ہوگئی تھی اور تمام جنگی بحری جہاز کوئی اور واقعہ پیش آنے سے قبل ہی وہاں سے روانہ ہوگئے تھے۔ایرانی حکام یا سرکاری میڈیا نے اس واقعے کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان جار ی نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ خلیج عرب میں ایران اور امریکا کے بحری جہازوں کے درمیان ٹاکرے ہوتے رہتے ہیں۔امریکی بحریہ نے 2016ء میں ایرانی بحریہ کے ساتھ پیش آئے 35غیر محفوظ یا غیر پیشہ ورانہ واقعات کی اطلاع دی تھی۔2015ء میں ایرانی اور امریکی بحریہ کے درمیان 23 ناخوش گوار واقعات پیش آئے تھے۔ گذشتہ سال ایرانی بحریہ نے دس امریکی سیلروں کو بھی پکڑ لیا تھا اور ان پر یہ الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے ایران کی آبی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

ایرانی فورسز خلیج میں امریکا کی موجودگی کو ایک اشتعال انگیزی قرار دیتی ہیں جبکہ امریکی بحریہ نے ایرانی بحریہ کو غیر پیشہ ورانہ کردار کی حامل قرار دیا ہے۔خاص طور پر خلیج عرب کے دہانے پر واقع آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیوں کا الزام عاید کیا ہے۔واضح رہے کہ دنیا کے ایک تہائی تیل کی تجارت اسی اہم گذرگاہ سے ہوتی ہے۔