.

ایرانی لابی امریکی جامعات میں اساتذہ کیسے بھرتی کرتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں سرگرم ایرانی لابی اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے امریکی اداروں میں اثرو نفوذ کے لیےمسلسل کوشاں رہتی ہے۔ حال ہی میں ایرانی اپوزیشن کی قریب سمجھی جانے والی ویب سائیٹ ’تحلیل روز‘ نے ایک تفصیلی رپورٹ میں امریکی جامعات میں ایرانی لابی کی جانب سےاساتذہ کے تقرر کے مختلف طریقوں پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی لابی امریکی درس گاہوں میں اپنے من پسند محققین کو تعینات کرانے، اساتذہ کو بھرتی کرانے اور طلباء کو داخل کرانے میں سرگرم عمل ہے۔

حال ہی میں امریکی شہر نیویارک کی ایک عدالت نے ایرانی لابی کی نمائندہ ’علوی‘ نام کے ایک خیراتی ادارے پر پابندی عاید کی۔ یہ تنظیم امریکی جامعات میں ایرانی رجیم کے حامی اساتذہ کو بھرتی کرانے کے لیے نہ صرف مہم چلاتی رہی ہے بلکہ اس مقصد کے لیے سرمایہ بھی مہیا کرتی ہے۔ علوی فاؤنڈیشن کی جانب سے شمالی امریکا کی 44 جامعات میں ایران نواز اساتذہ اور پروفیسروں کو تعینات کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان میں اکتالیس جامعات امریکا کے اندر واقع ہیں۔

گذشتہ جون میں امریکی عدالت نے علوی فاؤنڈیشن کے خلاف سنائے گئے مقدمہ میں اس تنظیم کو ایرانی رجیم سے براہ راست تعلق رکھنے، ایرانی ملیشیاؤں کی معاونت کرنے اور امریکا میں بم دھماکوں میں ملوث عناصر کو تخریب کاری اور دہشت گردی میں مدد فراہم کرنے کا الزام عاید کیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں نیوریاک کے علاقے مین ہٹن میں واقع تنظیم کے دفتر کا تمام سامان قبضے میں لینے کا حکم دیا۔ امریکی میڈیا میں اس کیس کو ایرانی لابی کے دہشت گردی کے مقاصد کے لیے مالی معاونت کار کے طور پرشہرت حاصل ہوئی۔

خفیہ سرگرمیاں

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ علوی فاؤنڈیشن نامی ادارہ ہمہ جہت سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ مگر اس کا اہم ترین طریقہ واردات خفیہ سرگرمیاں ہیں۔ امریکا میں ایرانی رجیم کی حمایت پر مبنی ثقافتی مراکز کا قیام، مساجد کی تعمیر اور ایرانی رجیم کی حمایت میں لوگوں کی ہمدردیوں کے حصول کے لیے دیگر حربے شامل ہیں۔

ایرانی رجیم کی حمایت میں امریکی جامعات میں پروپیگنڈہ علوی فاؤنڈیشن کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک ہے۔ یہ تنظیم مختلف ذرائع سے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے امریکی جامعات میں ایران کی طرف داری کرنے والے افراد کو اساتذہ، محققین اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرنےکے لیے کوشاں رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکا میں قائم اسلامی ثقافتی مراکز میں ایرانی تہذیب کے فروغ کے لیے فارسی زبان وادب کی تعلیم کو عام کرنے، ایرانی پروگرام کو لوگوں کے دلوں میں جاگزین کرنے، امریکی جامعات میں من پسند افراد اور ایرانی طلباء کوبھرتی اور داخل کرانے میں سرگرم ہے۔

رپورٹ کے مطابق براعظم شمالی امریکا میں سنہ 2013ء اور 2016ء کے درمیان علوی فاؤنڈیشن کی جانب سے سائنسی اداروں کی تعداد 30 سے بڑھا کر 44 کی گئی۔ ان میں سے 90 فی صد جامعات اور دیگر تعلیمی ادارے امریکا کے اندرو واقع ہیں۔

ایرانی انتہا پسندانہ نظام کے طرف دار اساتذہ

امریکی درس گاہوں میں بھرتی کیے گئے ایران نواز ماہرین، اساتذہ اور دیگر افراد اپنے مخصوص افکار سے طلباء کو متاثر کرنے اور ان کے سامنے ایران کا چہرہ خوش نما بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ اساتذہ مخصوص پروگرام کے تحت ایرانی رجیم اور اس کے انتہا پسندانہ نظریات کی وکالت کرتے ہیں۔

امریکا میں ایرانی کونسل کے چیئرمین ہوشنگ امیر احمدی ایسے ہی ایک پروفیسر ہیں جو امریکا کی راتگرز یونیورسٹی میں ایرانی لابی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق وہ اپنے لیکچرز میں فلسطینی تنظیم حماس اور لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا کھل کر دفاع کرتے ہیں۔

امریکا کی میری لینڈ یونیورسٹی کے ریسرچ اور پروفیسر ابراہیم محسنی بھی ایرانی لابی کے نمائندہ ہیں۔ انہوں نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی یہودیوں کے خلاف مہم کی حمایت میں ایک سروے جائزے کا بھی اہتمام کیا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق علوی فاؤنڈیشن امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کو ایک لاکھ ڈالر کی رقم دے چکی ہے۔ یہ رقم اس لیے دی گئی تھی تاکہ یونیورسٹی سابق صدر محمود احمدی نژاد کو لیکچر کی دعوت دے۔

جوہری معاہدے کی حمایت

امریکا میں سرگرم ایرانی لابی کے دیگر اہداف میں ایک اہم ہدف ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان دو سال قبل طے پائے تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر معاہدے کی حمایت کا حصول ہے۔

امریکا میں ایرانی لابی کی نمایندہ کونسل ’NIAC‘ نے کچھ عرصہ قبل ایک یاداشت تیار کی تھی جس پر مشرق وسطیٰ اور عالمی امور کے 73 ماہرین کے دستخط حاصل کیے گئے تھے۔ ان تمام شخصیات نے ایران اور عالمی طاقتوں کےدرمیان طے پائے معاہدے کی کھل کر حمایت کی تھی۔ دستخط کرنے والوں میں بڑی تعداد علوی فاؤنڈیشن کی مدد سے امریکی جامعات میں کام کرنے والے اساتذہ پر مشتمل بتائی جاتی ہے۔

تحلیل روز ویب سائیٹ کے مطابق علوی فاؤنڈیشن کی امریکی جامعات میں سرگرمیوں کا تذکرہ اس کا ایک پہلو ہے۔ امریکا میں ایسے دسیوں تعلیمی ادارے موجود ہیں نہیں علوی فاؤںڈیشن کی جانب سے خطیر رقوم فراہم کی جاتی رہی ہیں۔