.

شامی باغیوں کے لیے امدادی پروگرام خطرناک اور وسائل کا ضیاع تھا: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑنے والے باغیوں کا امدادی پروگرام بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بہت خطرناک اور وسائل کا ضیاع تھا۔

صدر ٹرمپ کے اس اعلان سے چند روز قبل ہی امریکا کے خصوصی آپریشنز کے سربراہ جنرل ٹونی تھامس نے بھی چار سالہ امدادی پروگرام کے خاتمے کی تصدیق کی تھی لیکن انھوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی تھی کہ اس فیصلے میں روس کی خواہش کارفرما ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’امازون واشنگٹن پوسٹ نے بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے شامی باغیوں کے لیے خطرناک اور رقوم کے ضیاع کے پروگرام کو ختم کرنے سے متعلق حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا ہے‘‘۔

انھوں نے اخبار کے ایک مضمون کے ردعمل میں یہ ٹویٹ کی ہے۔ اخبار نے ’’روس سے تعاون شام میں ٹرمپ کی حکمت عملی کی بنیاد بن گیا‘‘ کے عنوان سے مضمون شائع کیا ہے۔

اس نے بے نامی سرکاری عہدہ داروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’ امریکا اور اس کے آلہ کار شام کے بیشتر وسطی اور جنوبی علاقوں میں بشارالاسد کو کنٹرول دے دیں گے۔اس کے بدلے میں ماسکو اور اس کے اتحادی امریکی اتحادیوں کی داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے راہ ہموار کریں گے‘‘۔

امریکی اور روسی صدور نے اسی ماہ جرمن شہر ہیمبرگ میں جی 20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر شام کے جنوب میں محفوظ علاقوں کے قیام سے اتفاق کیا تھا‘‘۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے 2013ء میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح بغاوت برپا کرنے والے مختلف مزاحمتی گروپوں کے لیے امدادی پروگرام کی منظوری دی تھی اس کے تحت شامی حکومت کے مخالف ہزاروں شامی باغیوں کو تربیت دی گئی تھی۔

تاہم بعض حلقوں کی جانب سے شامی باغیوں کی صدر بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے لیے صلاحیت کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا تھا جبکہ اس دوران سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام ( داعش) کا بھی ظہور ہو گیا تھا اور امریکا کے تربیت یافتہ بہت سے باغی جنگجو داعش میں شامل ہوگئے تھے۔

گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران میں شامی باغیوں کو روسی اور شامی فوج کی مشترکہ کارروائیوں اور تباہ کن فضائی بمباری کے نتیجے میں پے درپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ شمالی شہر حلب میں اپنے زیر قبضہ علاقوں سے محروم ہوگئے ہیں۔امریکی حکام نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ بشارالاسد مخالف بعض دھڑوں کو داعش کے خلاف لڑنے والے امریکا کے حمایت یافتہ دھڑوں میں ضم کیا جاسکتا ہے۔