.

کانگریس: حزب اللہ کی فنڈنگ روکنے سے متعلق نئے قانون کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ لبنانی ملیشیا "حزب اللہ" کے خلاف مالی محاصرے کے ایک نئے مرحلے کو نافذ کرنے اور ملیشیا کی فنڈنگ کے سُوتے خشک کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

حالیہ پیش رفت سے اس امر کا ادراک ہوتا ہے کہ امریکیوں نے نئی پالیسی کا آغاز کر دیا ہے جو صرف دہشت گرد اداروں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس کی کاری ضرب ان اداروں کے اطراف کے ماحول اور ان کی فنڈنگ کرنے والے ذرائع کو بھی لپیٹ میں لے گی۔
امریکی کانگریس اور لبنانی پارلیمانی وفد کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والی گفت و شنید کے بعد Hizbollah’s International Financing Prevention Act for 2017 اب نافذ العمل ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

جارج واشنگٹن یونی ورسٹی کے ایک استاد فراس مقصد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو میں بتایا کہ کانگریس میں مذکورہ قانونی بِل پر رائے شماری تعطیلات کے بعد آئندہ ستمبر میں متوقع ہے۔ فراس کے مطابق نیا قانونی بِل 17 صفحات پر مشتمل ہے جو 2015 میں "حزب اللہ" کی فنڈنگ پر عائد پابندیوں سے متعلق موجودہ قانون کی تکمیل کرے گا۔ نئے بِل کا مقصد اضافی پابندیاں عائد کرنا اور سرحد پار حزب اللہ کے مالی نیٹ ورک اور اس کی مجرمانہ سرگرمیوں کو مفلوج کرنا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان میں خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ایڈورڈ روئس اور امریکی سینیٹ میں بین الاقوامی تعلقات کی کمیٹی کے رکن مارکو روبیو اس نئے قانونی بِل کو پیش کرنے والی مرکزی شخصیات ہیں جو حزب اللہ کے گرد مالیاتی گھیرا تنگ کرنے اور اس کے ساتھ لین دین کرنے والے بین الاقوامی بینکوں اور اداروں پر دباؤ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران ترتیب دیے جانے والے بِل کے متن میں "ڈرامائی" ترامیم قابل توجہ ہیں۔ معلوم رہے کہ نئے قانونی بِل میں "حزب اللہ" کے سوا کسی لبنانی ادارے کا نام موجود نہیں جب کہ بِل کے متن میں پابندیوں کا مسودہ اپنی اصل میں حزب اللہ کے حلیفوں کو بھی لپیٹ میں لینے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ ان میں سرِفہرست نبیہ بری کی صدارت میں " اَمل موومنٹ" اور "فِری پیٹریاٹک موومنٹ" ہیں۔ ان کے علاوہ نیشنل سیریئن پارٹی اور بعض کمیونسٹ گروپ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

کانگریس کی رپورٹیں

نیا قانونی بِل باقاعدگی کے ساتھ کانگریس کی اس حوالے سے رپورٹیں پیش کرنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ آیا ایرانی مالیاتی ادارے حزب اللہ کے لیے مالیاتی کارروائیاں آسان بنا رہے ہیں۔ فراس مقصد کے مطابق حزب اللہ کی فنڈنگ کے خلاف پابندیاں عائد کرنے سے متعلق 2015 کے قانون میں ترامیم کا بنیادی مقصد یہ ہی ہے۔


حزب الله.. بدترین مالیاتی بحران سے دوچار

یہ اقدامات خطے کی جنگوں میں حزب اللہ کی شرکت کا دائرہ اور اس کی فنڈنگ کے نیٹ ورکوں کا سلسلہ وسیع ہونے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اسرائیلی اخبار "يديعوت احرونوت" نے لبنان میں حزب اللہ کے زیر انتظام اسلحے کے دو کارخانوں کی موجودگی کے مقامات کے بارے میں انکشاف کیا تھا۔ یہ کارخانے الزہرانی اور الہرمل کے علاقے میں واقع ہیں۔


فراس مقصد نے بتایا کہ امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں خصوصی کمیٹیوں کو اس بات کا یقین ہو چلا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسبوق نوعیت کی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی وجہ سے قانون سازوں نے اس نئے بل کی تیاری کی کوششوں کو تیز کر دیا۔
معلومات سے انکشاف ہوا ہے کہ حزب اللہ کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے مالی رقوم اور عطیات کا ارسال لبنان کے مرکزی بینک کی نگرانی اور کنٹرول سے باہر بین الاقوامی کرنسی ایکسچینجوں بالخصوص "WESTERN UNION" کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔

کانگریس میں "لابنگ"

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ لبنان کے بینکنگ سیکٹر نے پابندیوں کے نفاذ کے حوالے سے لبنان کے مرکزی بینک کے گورنر ریاض سلامہ کی ہدایات کی پاسداری کی۔ اس کے نتیجے میں فردان کے علاقے میں BLOM Bank کی ایک شاخ کو دھماکے کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ فراس مقصد نے انکشاف کیا کہ لبنانی بینکوں کی ایسوسی ایشن نے معروف بین الاقوامی قانونی فرمDLA Piper کے ساتھ تقریبا 5 برسوں سے سالانہ دس لاکھ ڈالر کی ادائیگی کے مقابل معاہدہ کر رکھا ہے.. اور وہ کانگریس میں سیاسی فیصلے کرنے والی لابی پر اثر انداز ہونے کے سلسلے میں اب تک لاکھوں ڈالر خرچ کر چکی ہے تا کہ حزب اللہ کو نشانہ بنانے والی پابندیوں سے لبنانی بینکوں کو بچایا جا سکے۔

قانونی بِل کی منظوری کا طریقہ کار

امریکی کانگریس میں قانونی مراحل کے مطابق ایوان نمائندگان میں خارجہ امور کی کمیٹی اور سینیٹ میں بین الاقوامی تعلقات کی کمیٹی دونوں ہی قانونی بِل کا مسودہ تیار کر رہی ہیں۔ ضروری نہیں کہ دونوں مسودے ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوں تاہم مضمون کے لحاظ سے وہ ملتے جلتے ہیں۔ اگرچہ مخصوص کمیٹیاں بعد میں ایک یکساں قانونی بِل کے اندر دونوں متون کو یکجا کر سکتی ہیں۔ اس کے بعد قانونی بِل رائے رائے شماری کے لیے عمومی اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور متفق ہونے کی صورت میں اسے دستخط کے لیے امریکی صدر کو بھیج دیا جائے گا تا کہ اس کو نافذ العمل کیا جا سکے۔

پابندیوں میں کون شامل ؟

نیا قانونی بِل حزب اللہ کے لیے مالی رقوم جمع کرنے اور ارکان بھرتی کرنے کی سرگرمیوں کے حوالے سے لازمی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ یہ امریکی صدر کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ہر ایسے غیر ملکی شخص پر پابندی عائد کر دے جس کے بارے میں یہ بات واضح ہو جائے کہ وہ بِل میں مذکورہ اداروں اور تنظیموں میں سے کسی کو مالی ، مادی یا ٹکنالوجی نوعیت کی سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔ ان اداروں میں بيت المال، جہاد البناء، جمعيۃ دعم المقاومۃ الاسلاميۃ، دائرت العلاقات الخارجيۃ لحزب الله، المنظمۃ الامنيۃ الخارجيۃ لحزب الله، المنار ٹیلی وژن اور النور ریڈیو شامل ہیں۔