ٹرمپ سے اختلاف، امریکی وزیرخارجہ مستعفی ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض امور میں غیر لچک دار رویے کے باعث ان کے قریبی ساتھی بھی ان سے خوش نہیں۔ آئے روز امریکی انتظامیہ میں رد وبدل کی خبریں آتی ہیں۔ کوئی عہدیدار صدر ٹرمپ سے اختلافات کے باعث رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو رہا ہے اور کسی کو صدر خود عہدے سے ہٹا رہےہیں۔

ایسے میں یہ خبریں بھی عام ہیں کہ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن بھی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے نالا ہیں۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ وہ رواں سال کے آخر تک وزارت خارجہ کے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔

امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’سی این این‘ نے 65 سالہ ٹیلرسن کے ایک قریبی دوست کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ریکس ٹیلرسن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے سخت مایوس ہیں۔

ٹیلرسن کے قریبی دوست کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ ٹیلرسن نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے یہ اندازہ ہوتا کہ جیف سیشنر شام کے معاملے میں اختلافات کا اظہار کرتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دیں گے تو وہ انہیں اس عہدے پر فائز نہ کرتے۔

ٹیلرسن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ موقف غیر پیشہ وارانہ ہے اور ان کے اس موقف نے ٹیلرسن کو بھی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر غور پر مجبور کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ٹیلرسن کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کا نتیجہ ’ریکسیٹ‘ یعنی ریکس ٹیلرسن کے استعفے کا موجب بن سکتا ہے۔

تاہم وزارت خارجہ کے ترجمان ھیتھر ناورٹ نے اس طرح کی تمام اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ٹیلرسن کے درمیان اختلافات اس نوعیت کےنہیں کہ وزیرخارجہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔ ٹیلرسن نے بہت سےاہم اور کامیاب فیصلے کیے ہیں اور صدر ٹرمپ کو بھی ان پر بھرپور اعتماد ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب وزیر انصاف جیف سیشنر عہدے سے استعفیٰ دینے پرغورکررہے تھےوائیٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ سیشنر کو اپنی انتظامیہ میں نہیں رکھنا چاہتے۔ اس بیان کے ایک روز بعد یعنی کل منگل کو صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ سیشنر ان کے شکست خوردہ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اور ان کے ای میل اسکینڈل کےحوالے سے کمزور واقع ہوئے ہیں۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ٹیلرسن کے اختلافات نہ صرف صدر ٹرمپ کے ساتھ ہیں بلکہ وزارت خارجہ کے وائیٹ ہاؤس کے ساتھ بھی اختلافات ہیں۔

مڈل ایسٹ انسٹیٹٰوٹ کے ریسرچر الیکس واٹانکا کا کہنا ہے کہ ریکس ٹیلرسن ایک ایسی کشتی کے کپتان ہیں جس کا بیشتر عملہ پہلے ہی اتر چکا ہے اور ان کہ کشتی بھی ہچکولے کھا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ اور وائیٹ ہاؤس میں اختلافات کی وجہ فیصلہ سازی کے اختیارات کا استعمال ہے۔ ایران، مشرق وسطیٰ میں فلسطین، اسرائیل امن بات چیت کی بحالی کی مساعی اور داعش کے خلاف جنگ جیسے تمام اہم اقدامات اور فیصلے وزارت خارجہ نہیں بلکہ وائیٹ ہاؤس کے پاس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیلرسن سخت مایوس ہیں۔

اگرچہ ٹیلرسن اور ٹرمپ کے درمیان وزارت خارجہ کے بجٹ اور اس کی بیور کریسی کے بوجھ کو کم کرنے پر اتفاق ہے مگر مشرق وسطیٰ کے محوری مسائل کے حوالے سے ٹرمپ اور ٹیلرسن دو الگ الگ سمتوں میں چل رہے ہیں۔

جب قطر اور سعودی عرب کی قیادت میں چار عرب ملکوں کے درمیان کشیدگی سامنے آئی تو ٹیلرسن نے امریکا کے غیر جانب دار رہنے کی بات کی مگر وائیٹ ہاؤس کی طرف سے رد عمل مختلف تھا۔ ریکس ٹیلرسن نے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر سے قطر کا محاصرہ نرم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ قطر کے محاصرے سے انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے۔ ٹیلرسن کے بیان کے محض چند گھںٹے کے بعد صدر ٹرمپ کی طرف سے ایک مختلف بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے اقدامات مشکل مگر ناگزیرتھے۔

تاہم امریکی عہدیداروں نے کہا کہ ٹیلرسن اور ٹرمپ کے موقف میں اختلافات محض لہجے میں فرق ہے۔ یہ کوئی پالیسی نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں