"دولہا مسلمان".. ہنی مُون پر جانے والا جوڑا امریکی پولیس کی حراست میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں لاس اینجلس کے ہوائی اڈے پر حکام نے ایک برطانوی نوبیاہتا جوڑے کو 26 گھنٹوں تک حراست میں رکھنے کے بعد واپس لندن روانہ کر دیا۔ اس جوڑے کو جو اپنا ہنی مُون گزارنے کے لیے ہوائی جا رہا تھا یہ بتایا گیا کہ انہیں حراست میں لینے اور واپس بھیجنے کی وجہ یہ ہے کہ "دولہا" ایک مسلمان ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق 29 سالہ نتاشا پولیٹاکیز اور اس کے شوہر علی گُل نے بتایا کہ انہیں لوس اینجلس کے ہوائی اڈے پر حراست میں لے کر اس طرح کا سلوک کیا گیا گویا کہ وہ مجرم ہیں۔ برطانوی شہریت کے حامل دولہا دولہن کو زبردستی برطانیہ واپس بھیجے جانے کے سبب ان کے ہنی مُون پیکج کی رقم ضایع ہو گئی جس کے لیے 7 ہزار پاؤنڈ یعنی تقریبا 10 ہزار ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔

نتاشا نے ڈیلی میل کو بتایا کہ اس برتاؤ کا سامنا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کا شوہر علی ترکی نژاد مسلمان ہے۔

علی گُل لندن میں پراپرٹی بروکر ہے اور اس میدان میں ایک کامیاب کمپنی چلا رہا ہے۔ اس کے پاس برطانوی شہریت ہے جس کے سبب اسے امریکی سرزمین میں داخل ہونے کے لیے پیشگی ویزا لینے کی بھی ضرورت نہیں۔

لاس اینجلس ہوائی اڈے پہنچنے پر نتاشا اور علی کو بتایا گیا تھا کہ ان کا محض 5 منٹ دورانیے کا انٹرویو ہوگا مگر بعد ازاں دونوں اس امر پر بھونچکا رہ گئے کہ ان کی حراست کا دورانیہ 26 گھنٹے تک چلا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں