’جعلی حسینائیں‘ سوشل میڈیا پر جاسوسی کا نیا ایرانی جال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے بتایا ہے کہ ایران میں سوشل میڈیا پر جاسوسی کے مذموم مقاصد کے لیے تہران سرکار نے خواتین کی جعلی تصاویر پرمبنی اکاؤنٹس کا اندھا دھند استعمال شروع کر رکھا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل، کمینونیکیشن، فضائی امور کے بارے میں مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جاسوسی کے لیے جعلی حسیناؤں کی تصاویر کی مدد سے ایرانی سرگرم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کی ویب سائیٹس پر نوجوان اور خوبرو لڑکیوں کی تصاویر کے ساتھ تیار کردہ اکاؤنٹس سے مشرق وسطیٰ کے نوجوانوں کو ورغلانے اور انہیں جاسوسی کے جال میں پھنسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایک جعلی حسینہ ’میا آش‘ کے نام سے سرگرم ہے جس نے اپنی تصاویر فیس بک۔ لنکڈ ان اور وٹس ایپ پر پوسٹ کرنے اور درمیانی عمر یا نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان جعلی اکاؤنٹس سے مشرق وسطیٰٗ میں تیل، گیس، اسپیس اور کمیونیکیشن کے شعبوں سے وابستہ انجینیروں اور ٹیکنیکل ماہرین کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی تصاویر پرمبنی ان اکاؤنٹس کے پس پردہ ایسے ایرانی عناصر سرگرم ہیں جو مشرق وسطیٰ کے نوجوانوں کوایران کے لیے جاسوسی کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ جعلی حسینائیں ایرانی حکومت کے آلہ کار ہیں جو مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر ونفوذ گہرا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں