.

’سابق امیر قطر کا سعودیہ کے خلاف خفیہ سازشوں کا اعتراف‘

مملکت مخالف منفی پروپیگنڈے کے دو ہفتوں میں 8 ہزار اکاؤنٹس سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہی دیوان کے مشیر سعود القحطانی نے بتایا ہے کہ سابق امیر قطر حمد بن خلیفہ آل ثانی اور سابق وزیراعظم حمد بن جبر بن جاسم آل ثانی نے مقتول لیبی لیڈر معمر قذافی کے ساتھ گٹھ جوڑ کی خفیہ سازش کا اعتراف کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق امیر قطر اور موجودہ امیر قطر کے والد نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے لیبیا کے سابق مرد آہن معمر قذافی کےساتھ مل کر سعودی اور مملکت کی قیادت کے خلاف سازش تیار کی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی شاہی مشیر القحطانی کا کہنا ہے کہ سابق امیر قطر کے تسلیم کرچکے ہیں کہ وہ لیبیا کے سابق رہ نما معمر قذافی کے ساتھ مل کر سعودی عرب کے خلاف سازشیں کرتے رہے ہیں تاہم سابق امیر قطر یہ بات خود خلیجی قیادت کو بھی بتا چکے ہیں کہ ان کی سازشیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ انہوں نے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں فراموش کرنے اور تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

سعود القحطانی کا کہنا ہے کہ معمر قذافی کےساتھ مل کر سعودی عرب کے خلاف سازشوں کے نتیجے میں سابق امیر قطر کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے تھے اور انہوں نے مجبور ہو کر اقتدار انے بیٹے تمیم بن حمد آل ثانی کو منتقل کردیا تھا۔

القحطانی کا کہنا ہے کہ سابق امیر قطر اور قذافی کے درمیان خفیہ گٹھ جوڑ کے بے نقاب ہونے کے بعد انہیں حکومت چھوڑنا پڑی۔ اس کے ساتھ ساتھ سابق قطری عہدیداروں کو قذافی سے جان چھڑانے کے لیے بھی اربوں کی رقم صرف کرنا پڑی تھی۔

ادھر سعودی شاہی دیوان کی سرکاری ویب سائیٹ کے ’ٹوئٹر‘ اکاؤنٹ پرپوسٹ ایک مطالعاتی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بدنام کرنے کے لیے ٹوئٹر پر دو ہفتوں کے دوران 8 ہزار اکاؤنٹ کھولے گئے۔ یومیہ کی بنیاد پر ان اکاؤنٹس کی تعداد 557 بنتی ہے۔ جعلی سعودی شہریوں کے نام پر بنائے گئے ان اکاؤنٹس میں سعودی عرب کو داخلی سطح پر درپیش مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور مملکت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔