.

آسٹریلیا : طیارہ تباہ کرنے کے منصوبے میں دھماکا خیز مواد جُوسر میں نصب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا میں حکام نے دو روز قبل ایک مسافر طیارے کو فضا میں تباہ کرنے کا خوف ناک منصوبہ ناکام بنا دینے کا اعلان کیا۔ منصوبہ بندی کے 4 مرکزی کرداروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آسٹریلوی اخبارات کے مطابق کارروائی کی منصوبہ بندی 4 لبنانی نژاد آسٹریلوی شہریوں نے کی۔

ان افراد نے غیر روایتی نوعیت کی اشیاء کو استعمال کرتے ہوئے گندھک پر مبنی گیس کے ذریعے طیارے کے مسافروں کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان اشیاء میں "جُوس" یا "قیمہ نکالنے" والی مشینوں کے علاوہ باورچی خانے میں استعمال ہونے والی دیگر اشیاء بھی شامل ہیں جن کے اندر دھماکا خیز مواد رکھ کر انہیں مشرق وسطی کے ایک شہر جانے والے طیارے میں منتقل کیا جانا تھا۔

ذرائع کے مطابق چار افراد میں ایک باپ اور اس کے بیٹے کا تعلق ایک خاندان سے اور دوسرے باپ اور بیٹے کا کسی اور خاندان سے ہے۔ یہ افراد ماضی میں انسداد دہشت گردی کے ادارے کے لیے جانے پہنچانے لوگ نہیں ہیں۔

آسٹریلوی سکیورٹی حکام نے مذکورہ افراد کی کڑی نگرانی کے دوران پُھرتی دکھاتے ہوئے انہیں ہفتے کے روز گرفتار کرلیا۔ ان کی تلاش میں سڈنی کے تین علاقوں میں پانچ مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ دو باپ بیٹوں کوLakemba کے علاقے سے حراست میں لیا گیا جہاں پر لبنانیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے.. جب کہ بقیہ دو کو شہرے کے مشرقی علاقےSurry Hills سے گرفتار کیا گیا۔

گرفتار شدگان کے گھروں سے مختلف قسموں کی جُوس اور قیمہ نکالنے والی مشینیں برآمد کر لی گئیں۔ ان کے علاوہ ہاتھ سے تحریر کیے گئے کئی صفحات ، ایکiPad اور دو موبائل فون بھی قبضے میں لیے گئے۔ گرفتار شدگان پر ابھی تک کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے اور یہ تحقیق کے واسطے سات روز تک حکام کی تحویل میں رہیں گے۔

آسٹریلوی اخبارThe Sydney Morning Herald نے پیر کے روز چاروں افراد کے نام شائع کیے ہیں۔ ان میں پچاس سال سے زاید عمر کا شخص خالد مرعی اور اس کا بیٹا عبداللہ اور 66 سالہ خالد خیاط اور اس کا بیٹا محمود شامل ہیں۔

خبر رساں ایجنسیوں نے اتوار کے روز آسٹریلوی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ انہوں نے دستی بم کے ذریعے مسافر طیارہ گرانے کی ایک "دہشت گردی کی سازش" ناکام بنا دی ہے۔ اس سلسلے میں آسٹریلوی وزیر اعظم میلکم ٹرنبل نے کہا کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی کسی ایک شخص کا کام نہیں ہے۔

اس دوران پورے ملک میں مقامی اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا میں 4 لاکھ سے زیادہ لبنانی نژاد افراد قیام پذیر ہیں۔

وزیراعظم میلکم ٹرنبل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ انتہائی سنگین اور حقیقی ہے۔ تاہم آسٹریلوی حکام نے اتوار کے روز یہ نہیں بتایا کہ آیا اس منصوبے کے تحت کس اندورون یا بیرون ملک پرواز کو نشانہ بنایا جانا تھا۔

1