.

ایران: سعودی سفارت خانے پر حملے کے ملزمان کو برائے نام سزائیں

’فرضی اور نمائشی ٹرائل میں ملزمان کو بچانے کی کوشش کی گئی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ برس ایران کے دارالحکومت تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر چڑھائی کرنے اور سفارت خانے کی عمارت کو آگ لگانے میں ملوث 10 تخریب کار عناصر کو نمائشی ٹرائل میں تین سے چھ ماہ قید کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی عدالتوں کی طرف سے سعودی سفارت خانے پرحملے میں ملوث ملزما کے ٹرائل کو غیر شفاف اور دھوکہ دہی پرمبنی قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملزمان کے وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ایرانی عدالتوں سے ملزمان کے خلاف حقیقی بنیادوں پر مقدمہ لڑا ہی نہیں کیا گیا۔ عدالتوں کی طرف سے ملزمان کا محض نمائشی ٹرائل کیا گیا تاکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے۔

ملزمان کے ایک وکیل مصطفیٰ شعبانی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے میں 19 ملزمان نامزد تھے مگر ان میں سے صرف 10 کو نمائشی ٹرائل کے بعد معمولی سزائیں دی گئی ہیں۔ سزائیں پانے والوں میں چار مذہبی رہ نما بھی شامل ہیں۔

اگرچہ ایرانی صدر حسن روحانی نے سعودی عرب کےسفارت خانے اور قونصل خانے پرحملے میں ملوث ملزمان کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا مگر تمام ملزمان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی بند کمرے میں ہوئی۔

ایرانی عدالتوں کی طرف سے تسلیم کیا گیا تھا کہ سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملوں کے شبے میں دسیوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا مگر ان میں سے بیشتر کو رہا کردیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقدمہ میں ملزمان کی طرف سے پیش ہونے والے بعض وکلاء نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی انقلاب عدالت نے ٹھوس شواہد نہ ہونے کا بہانہ بناتے ہوئے مقدمات پراسیکیوٹر کو واپس لوٹا دیے تھے جس کے بعد تمام ملزمان کو باعزت بری کردیا گیا۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ بہ ظاہر نمائش کے لیے کئی ماہ تک ایرانی عدالت میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملوں میں ملوث افراد کے ٹرائل کا سرکس لگایا گیا۔ ملزمان کو عدالت میں بھی پیش کیا جاتا رہا مگر ججوں کے طرز عمل سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ اس کیس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔

ایرانی میڈیا نے ہفتے کے روز محمد نریمانی نامی ایک وکیل کا بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملے کے کیس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ ایک حصے میں ’کار سرکار میں مداخلت‘ اور دوسرا سفارت خانے میں توڑ پھوڑ قرار دیا گیا۔ مدعی کی عدم موجودگی کے باعث عدالت کی طرف سے کہا گیا کہ سفارت خانے میں توڑ پھوڑ کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کی ایک عدالت نے 2 نومبر کو جاری کرد فیصلے میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے اور عمارت کو آگ لگانے میں ملوث تمام 45 ملزمان کو باعزت بری کر دیا تھا۔

ایران کے سرکاری ذرایع ابلاغ نے تسلیم کیا ہے کہ سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملہ کرنے والے بلوائیوں میں 20 ملزمان پاسداران انقلاب اوربیسج فورس کے رکن ہیں۔ وہ ماضی میں شام میں بشارالاسد کے دفاع میں لڑتے بھی رہے ہیں۔ ان ملزمان کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں سفارت خانے کی طرف بڑھنے سے منع نہیں کیا۔ جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ تہران میں سعودی سفارت خانے پر یلغار باقاعدہ منصوبے کے تحت کی گئی تھی۔

دوہرا معیار

ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کی نیوز ایجنسی ’ہرانا‘ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایرانی عدلیہ انصاف کے بجائے ظلم بانٹ رہی ہے۔ عدالتیں ملزمان کے خلاف مقدمات کی سماعت اور فیصلوں میں دہرے معیار پرعمل پیرا ہیں۔ بنیادی شہری حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کرنے والے شہریوں کو سنگین سزائیں دی جاتی ہیں مگر اس کے برعکس سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد میں قائم قونصل خانے پر یلغار کرنے والے تخریب کاروں کے آزادانہ ٹرائل کے بجائے انہیں بچانے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح ایرانی عدلیہ دوہرے معیار کا شکار ہے۔

حملے کا ماسٹر مائنڈ

ایرانی شدت پسند مذہبی لیڈر حسن کرد میھن کو دو جنوری 2016ء کو تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملوں کا منصوبہ قرار دیا جاتا ہے۔

حسن کرد میھن کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے معاملے پر ایران میں صدارتی انتخابات سےقبل امیدواروں کے درمیان بحث بھی ہوتی رہی ہے۔ نائب صدر اسحاق جہاں گیری نے انکشاف کیا تھا کہ حسین میھن تہران کےسابق میئر اور سابق صدارتی امیدوار جنرل ریٹائرڈ محمد باقر قالیباف کی انتخابی مہم چلاتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملے کے بعد ایران کی سیاحت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ صرف سعودی عرب سے آنے والے 7 لاکھ سیاح اور شیعہ زائرین کی ایران آمد ورفت تعطل کا شکار ہے۔

حسن کرد میھن کون؟

ایران کے جنوب مغربی شہر کرج میں قائم انصار حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے حسن کرد میھن کا شمار سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقربین میں ہوتا ہے۔ سنہ 1998ء کی طلباء تحریک اور 2009ء میں صدارتی انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات کے تحت اٹھنے والی تحریک کچلنے میں میھن نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

اس کے علاوہ سنہ 2013ء میں صدارتی انتخابات میں نامزد امیدوار محمد باقر قالیباف کی انتخابی مہم چلانے میں بھی اس کا کلیدی کردار ہے۔ میھن ’نور معرفت‘ سمیت 9 ادارے چلا رہا ہے جو ایرانی رجیم کو مالی اور لاجسٹک امداد مہیا کرتے ہیں۔ اس کے گروپ میں سابق صدارتی امیدوار اور تہران کےمیئر باقر قالیباف بھی شامل ہیں۔

حسن میھن شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع میں پاسداران انقلاب کی طرف سے جنگ میں بھی شریک ہوچکا ہے۔ میھن جوڈو کراٹے کا ماہر ہے اور ایرانی نوجوانوں کو اس کی کوچنگ بھی کرتا ہے۔

حسن روحانی پر الزام

اگست 2016ء کو حسن کرد میھن نے ایرانی صدر حسن روحانی کے نام ایک کھلا خط شائع کیا جس میں اس نے سعودی سفارت خانے پرحملے کے کیس میں ٹال مٹول سے کام لینے کا الزام عاید کیا۔

مسٹر میھن نے کہا کہ سعودی سفارت خانے پرحملے میں ملوث عناصر میں پاسداران انقلاب اور بیسج فورس کے ’حزب اللہ انقلابی گروپ‘ کے افراد ملوث ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ سعودی سفارت خانے پرحملے کو روکنا حکومت کے اختیار میں تھا۔ اگر پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے تحفظ فراہم کرتے تو سعودی سفارت خانے پر یلغار ممکن نہیں تھی۔

’انصاف نیوز‘ ویب سائیٹ کے مطابق کرد میھن نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کو ٹیلیگرام کی مدد سے سعودی سفارت خانے کی طرف بڑھنے کی ہدایت کی تھی۔ وہ خود ان میں شامل نہیں تھا بلکہ شام میں تھا۔