.

ترکی : انسداد دہشت گردی،چھاپا مار کارروائیوں میں 1100 مشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں چھاپا مار کارروائیوں میں جنگجو گروپوں اور گذشتہ سال حکومت کے خلاف ناکام بغاوت کے الزام میں 1098 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ترکی کی وزرت داخلہ نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد میں 831 کا تعلق امریکا میں مقیم دانشور فتح اللہ گولن سے ہے۔ترک حکومت نے ان پر گذشتہ سال جولائی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کا سرغنہ ہونے کا الزام عاید کیا تھا لیکن انھوں نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

وزارت داخلہ نے مزید کہا ہے کہ کرد باغیوں کی جماعت کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) سے تعلق کے الزام میں 213 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔46 افراد کو داعش سے مبینہ تعلق اور آٹھ افراد کو بائیں بازو کے دہشت گرد گروپوں سے تعلق کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔

ترکی میں 15 جولائی 2016ء کی حکومت کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد قریباً پچاس ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ان کے علاوہ فوج ،سول سروس اور عدلیہ سے تعلق رکھنے والے قریباً ڈیڑھ لاکھ ملازمین کو برطرف یا معطل کیا جاچکا ہے۔

ترک حکومت کے ان اقدامات پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور مغربی ممالک نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن صدر رجب ایردوآن کی حکومت نے اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کو درپیش خطرے کے پیش نظر سرکاری محکموں میں تطہیر ناگزیر تھی۔