.

یمن : صنعا میں کم سن بچی کا قاتل سرعام فائرنگ سے ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا میں ایک تین سالہ بچی کو زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کرنے والے مجرم کو سیکڑوں افراد کے سامنے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ہے۔

صنعا کے میدان التحریر میں سوموار کو ایک جج نے اکتالیس سالہ ملزم محمد المغربی کو بچی سے زیادتی اور پھر اس کو قتل کرنے کے جرم میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم پڑھ کر سنایا تھا۔اس کے بعد ایک پولیس اہلکار نے آتشیں رائفل سے اس کے سر میں پانچ گولیاں مار دیں۔مجرم کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے اور اس کو زمین پر ایک کمبل پر لٹایا گیا تھا۔

اس مجرم کو اس کے انجام سے دوچار کرنے کے وقت یمنیوں کی بڑی تعداد میدان التحریر میں موجود تھی۔ان میں بہت سے ٹیلی فون کے کھمبوں اور مکانوں کی چھتوں پر چڑھے ہوئے تھے۔

اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے کیونکہ اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ اس مجرم کی ہوس کا نشانہ بننے والی بچی رعنا المطری کے قبیلے کے لوگ انتقام میں اس کو قتل کرسکتے ہیں۔مغربی کو ایک پولیس ٹرک کے ذریعے میدان التحریر میں لایا گیا تھا اور اس کے ساتھ پولیس کی پانچ گاڑیاں بھی تھیں۔

مجرم کو سرعام اس طرح موت سے ہم کنار کیے جانے کے بعد بچی کے والد یحییٰ المطری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج میں نے ایک طرح سے نیا جنم لیا ہے اور یہ میری زندگی کا پہلا دن ہے۔میں اب سکون محسوس کررہا ہوں‘‘۔

محمدالمغربی کو ایک پولیس ٹرک میں میدان التحریر میں لایا گیا ہے۔
محمدالمغربی کو ایک پولیس ٹرک میں میدان التحریر میں لایا گیا ہے۔
 کم سن بچی کے قاتل محمد المغربی کو اس کے انجام سے دوچار کرنے کے لیے صنعا کے مشہور میدان التحریر میں لایا جارہا ہے۔
کم سن بچی کے قاتل محمد المغربی کو اس کے انجام سے دوچار کرنے کے لیے صنعا کے مشہور میدان التحریر میں لایا جارہا ہے۔