.

ایران کی نئے روٹ کے ذریعے یمنی حوثیوں کو اسلحے کی ترسیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے یمن میں اپنے آلہ کار حوثی شیعہ باغیوں کو اب اسلحے کی ترسیل کے لیے ایک نیا خفیہ راستہ اختیار کر لیا ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز نے اس معاملے سے جانکاری رکھنے والے حکام کے حوالے سے اس نئے روٹ کا انکشاف ہے۔مارچ میں علاقائی اور مغربی ذرائع نے اس خبررساں ایجنسی کو بتایا تھا کہ ایران حوثیوں کے لیے اسلحہ اور اپنے فوجی مشیر براہ راست یمن بھیج رہا تھا یا پھر انھیں صومالیہ کے ذریعے آبی راستے سے بھیجا جارہا تھا۔

تاہم یہ روٹ پُرخطر تھا اور خلیج اومان اور بحیرہ عرب میں گشت کرنے والی بین الاقوامی فورسز کے جنگی بحری جہازوں سے آمنا سامنا ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا تھا اور اس روٹ سے گذشتہ برسوں کے دوران میں ایران کی جانب سے حوثیوں کے لیے بھیجی گئی اسلحے سے لدی متعدد کشتیاں پکڑی گئی تھیں۔

مغربی اور ایرانی ذرائع کے مطابق حوثیوں کو اسلحے کی ترسیل پر عاید بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایران نے اب نیا آبی راستہ اختیار کررکھا ہے اور پاسداران انقلاب کور گذشتہ چھے ماہ سے کویت اور اومان کے درمیان آبی راستے کو حوثیوں تک اسلحہ پہنچانے کے لیے استعمال کررہی ہے۔

ان ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس نئے روٹ کے ذریعے ایرانی جہازوں پر اسلحہ اور فوجی سازوسامان لاد کر لے جایا جاتا ہے اور پھر خلیج کے بالکل بالائی حصے میں اس کو چھوٹے جہازوں پر منتقل کردیا جاتا ہے۔ بڑے جہازوں سے چھوٹے جہازوں پر اسلحے کی منتقل کا یہ عمل کویت کے پانیوں اور اس کے نزدیک واقع بین الاقوامی آبی گذرگاہوں میں کیا جاتا ہے۔

ایک سینیر ایرانی عہدے دار نے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ’’ میزائلوں کے حصے ،لانچروں اور اسلحہ کو کویتی پانیوں کے ذریعے یمن اسمگل کیا جاتا ہے۔اس روٹ کو بعض اوقات نقد رقوم کی منتقلی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اس عہدہ دار کے بہ قول ’’ حال ہی میں یا گذشتہ چھے ماہ کے دوران میں یمن میں اسمگل کیے گئے اسلحے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں میزائلوں کے وہ حصے بھی شامل ہیں جو یمن میں تیار ہی نہیں کیے جاسکتے ہیں‘‘۔ نقدی اور منشیات کو حوثیوں کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب عرب اتحاد کی یمن میں ایران کی جانب سے حوثی باغیوں کو فوجی آلات اور اسلحے کی ترسیل کو روکنے کے لیے کوششوں میں محدود کامیابی ملی ہے اوراس سال کے دوران میں اب تک بین الاقوامی پانیوں یا یمن کی آبی حدود میں ایرانی اسلحے کی کوئی ایک کھیپ بھی نہیں پکڑی گئی ہے۔

یمن پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں نے سلامتی کونسل کو اپنی خفیہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ انھوں نے اسلحے کی اسمگلنگ کے ممکنہ روٹس کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ عرب اتحاد میں شامل متحدہ عرب امارات نے ستمبر 2016ء کے بعد یمن میں اپنی بری فورسز پر حوثی ملیشیا کے گیارہ حملوں کی اطلاع دی ہے ۔حوثی ملیشیا نے ڈرونز یا بغیر پائیلٹ طیاروں سے یہ حملے کیے تھے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثی باغی میزائل تیار کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ہیں اور وہ بیرون ملک سے اسمگل کرکے لائے جانے والے پارٹس کو جوڑ کر میزائل تیار کرتے ہیں۔

جب ایک ایرانی عہدہ دار سے سوال کیا گیا کہ کیا حوثیوں کو اسلحے کی اسمگلنگ کے اس تمام عمل میں پاسداران انقلاب ایران ملوث ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ خلیج میں پاسداران انقلاب کی شرکت کے بغیر کوئی سرگرمی وقوع پذیر نہیں ہوسکتی ہے۔ وہی خطے میں ایران کی گماشتہ جنگوں کے لیے نقد رقوم کے علاوہ اسلحہ مہیا کررہے ہیں۔ایک اور ایرانی عہدہ دار نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

پاسداران انقلاب ایران یا دفتر خارجہ نے رائیٹرز کے رابطہ کرنے پران الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے اور نہ اپنے موقف کی وضاحت کی ہے۔ کویتی حکام نے بھی اپنی بحری حدود میں ایرانی فورسز کی سرگرمیوں کے حوالے سےسوالات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔امریکی بحریہ کے ایک ترجمان نے بھی یمن میں حوثیوں کو خفیہ طریقے سے ایرانی اسلحے کی ترسیل کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی ہے۔