.

قطر بحران پر مذاکرات کے لیے ٹیلرسن کے دو سینئر ایلچی خلیج روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے اپنے دو سینئر ایلچیوں کو خلیج میں جاری سفارتی بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی ذمے داری سونپی ہے۔ان میں ریٹائرڈ جنرل اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکا کے سابق خصوصی ایلچی انتھونی زینی بھی شامل ہیں۔

ریکس ٹیلرسن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر امریکا کے ساتھ ( دہشت گردی کے استیصال کے لیے ) کیے گئے وعدوں کو ابھی تک پورا کررہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے امریکا کے ایک سینئر سفارت کار ٹم لینڈ ر کنگ کو بحران کے حل کے لیے بات چیت کی غرض سے خطے کے دور ے پر روانہ کردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ’’ میں نے ریٹائرڈ جنرل انتھونی زینی کو بھی ان کے ساتھ جانے کے لیے کہا ہے تاکہ ہم برسر زمین مستقل دباؤ کو برقرار رکھ سکیں اور میرے خیال میں یہ اقدام کیا جانا چاہیے’’۔امریکی وزیر خارجہ نے سفارتی کوششوں کے حوالے سے بتایا کہ ’’اس وقت تو صرف ٹیلی فون کے ذریعے ہی اس معاملے کی پیروی کی جارہی ہے‘‘۔

چار خلیجی عرب ممالک سعودی عرب ؛، متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مصر نے 5 جون کو قطر کے ساتھ سیاسی ، سفارتی اور تجارتی تعلقات او ر زمینی وفضائی رابطے منقطع کر لیے تھے۔ ان ممالک نے قطر پر دہشت گردی کی مالی اور سیاسی حمایت اور خلیجی ممالک کے مفادات کی قیمت پر ایران کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے الزامات عاید کیے تھے۔

قطر ان الزامات کی تردید کر چکا ہے ۔ البتہ اس نے بحران کے حل کے لیے کویت کے مصالحت کار کے طور پر کردار سے اتفاق کیا تھا اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے خلیج کے دورے کے موقع پر دہشت گردی اور اس کے لیے مالی رقوم کی روک تھام کے لیے ایک سمجھوتے سے اتفاق کیا تھا۔ریکس ٹیلرسن نے اپنی نیوز کانفرنس میں اسی جانب اشارہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ 73 سالہ انتھونی زینی ریٹائرڈ میرین جنرل ہیں۔وہ ماضی میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فورسز کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔ وہ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی بھی رہے تھے۔