.

امریکا نے نئی پابندیاں عاید کرکے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے کہا ہے کہ امریکا نے اس پر نئی پابندیاں عاید کرکے 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی خلاف کی ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کے روز سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے: ’’ ہمیں یہ یقین ہے کہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور ہم اس پر مناسب ردعمل ظاہر کریں گے‘‘۔

انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی منظوری کے ایک رو ز بعد کہا ہے کہ ’’ ہم یقینی طور پر امریکی پالیسی اور ٹرمپ کے دھوکے میں نہیں آئیں گے اور ہم بڑے غور وخوض کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کریں گے‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے علاوہ روس اور شمالی کوریا کے خلاف بدھ کے روز نئی پابندیوں کے نفاذ کے لیے بل پر دست خط کیے تھے۔ امریکی کانگریس نے حال ہی میں ان تینوں ممالک کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کے لیے کثرت رائے سے اس بل کی منظوری دی تھی۔

ایران کے خلاف یہ نئی پابندیاں اس کے میزائل پروگرام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی بنا پر عاید کی گئی ہیں۔یہ امور جولائی 2015ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے شدہ جوہری معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے ہیں۔

تاہم ایران کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں جوہری معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔اس نے امریکی کانگریس میں ان پابندیوں کی منظوری کے بعد کہا تھا کہ وہ جوہری معاہدے کی نگرانی والے عالمی کمیشن کے ہاں اس کی شکایت دائر کرے گا۔