.

ایرانی اپوزیشن رہ نما بنیادی طبی سہولیات سے محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایران کے بیشتر اپوزیشن رہ نما اور سرگرم کارکن بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں ایران میں اپوزیشن رہ نماؤں کو بنیادی طبی سہولیات اور مراعات سے محروم کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ’سبز انقلاب‘ تحریک میں سرگرم رہنے والے رہ نماؤں کو بنیادی مراعات سے محروم رکھے ہوئے ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سبز انقلاب تحریک کے دو سرکردہ رہ نما مہدی کروبی اور میر حسین موسوی 2011ء سے اپنے گھروں پر نظر بند ہیں جہاں انہیں دیگر بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ صحت جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔

بیروت میں قائم دفتر سے جاری بیان میں ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے ایرانی حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ طبی مراعات سے محروم رکھے گئے اپوزیشن رہ نماؤں کو فوری طبی سہولیات فراہم کرے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی خاتون ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ سارہ ویٹسن نے کہا کہ ایرانی عہدیدار دانستہ طور پر نظر بند مہدی کروبی، میر حسین موسوی اور ان کی اہلیہ زہرا زھنورد کو ادنیٰ درجے کے انسانی حقوق سے مسلسل چھ سال سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف عدالت میں کوئی مقدمہ جا رہا ہے اور نہ ہی ان کی غیرقانونی نظر بندی ختم کرنے کے لیے انہیں قانونی معاونت یا قانونی چارہ جوئی کا حق دیا گیا ہے۔

چوبیس جولائی 2017ء کو مہدی کروبی کے بیٹے تقی کروبی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے والد دل کی تکلیف اور دل کی دھڑکن کم ہونے پر اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں سنہ 2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد دھاندلی کا الزام عاید کرنے والے اصلاح پسند اپوزیشن رہ نما مہدی کروبی اور میری حسین موسی کو ان کے گھروں پر نظر بند کردیا گیا تھا۔