.

تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملے کی تحقیقات سےمتعلق ایرانی دعوے مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک عہدہ دار نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے تہران میں گذشتہ سال کے اوائل میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مشتعل افراد کے حملوں کی تحقیقات کی تکمیل سے متعلق دعووں کو مسترد کردیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق اس سرکاری ذریعے نے وضاحت کی ہے کہ ایرانی حکام نے 25 سے 29 دسمبر تک ایرانی سرزمین پر ایک سعودی ٹیم بھیجنے کے لیے بات چیت کے بعد سے روابط منقطع کررکھے ہیں۔اس ٹیم نے سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملوں کی تحقیقات کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے جانا تھا۔

اس ذریعے کے مطابق چار ماہ کے بعد ایرانی حکام نے سعودی ٹیم کے دورے کے لیے ایک نئی تاریخ مقرر کرنے کی درخواست کی تھی اور پھر 3 جولائی 2017ء کی تاریخ پر اتفاق کیا گیا تھا اور ایران نے اس تاریخ کی منظوری بھی دے دی تھی لیکن یکم اگست تک ایک سعودی طیارے کے اپنی سرزمین پر اترنے کے لیے کوئی اجازت نامہ جاری نہیں کیا تھا۔

یادرہے کہ سعودی عرب میں 2 جنوری 2016ء کو ایک شیعہ عالم نمرالنمر کا دہشت گردی اور بغاوت کے جرم میں سرقلم کیے جانے کے بعد مشتعل ایرانی مظاہرین نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر دھاوا بول دیا تھا اور ان کی عمارتوں میں گھس کر آگ لگا دی تھی جبکہ بعض ایرانی لیڈروں نے سعودی عرب کے خلاف تند وتیز بیانات جاری کیے تھے۔

سعودی عرب نے جنیوا کنونشنز کی اس انداز میں کھلے عام پامالی کے بعد ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے اور تہران سے اپنے سفیر اور سفارتی عملہ کو بھی وا پس بلا لیا تھا۔تب سے دونوں ملکوں میں سفارتی روابط منقطع ہیں اور ان میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔