.

یمن : القاعدہ کے خودکش بم حملے میں 6 فوجی جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی صوبے شبوہ میں القاعدہ کے ایک خودکش کار بم حملے میں متحدہ عرب امارات کی تشکیل کردہ نئی جنگجو مخالف فورس کے چھے فوجی جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

یمن کے ایک عسکری ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ القاعدہ کے خودکش بمبار نے صوبہ شبوہ میں واقع ایک فوجی چوکی پر اپنی بارود سے بھری گاڑی کو دھماکے سے اڑایا ہے جس کے نتیجے میں فوج کی دو گاڑیاں تباہ ہوگئیں اور ان میں سوار متعدد فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔

اس ذریعے نے مزید بتایا ہے کہ اس خود کش بمبار کے ساتھ آنے والے القاعدہ کے دوسرے جنگجو دھماکے کے بعد متعدد یمنی فوجیوں کو اغوا کر کے ساتھ لے گئے ہیں۔جاں بحق اور زخمی ہونے والے یمنی فوجیوں کا ’’ ایلیٹ یونٹ‘‘ سے تعلق ہے۔اس کو متحدہ عرب امارات کی فورسز نے حال ہی میں تشکیل دیا ہے۔

واضح رہے کہ یمن کے جنوبی علاقوں میں القاعدہ کے جنگجو وقفے وقفے سے اس طرح کے بم حملے کرتے رہتے ہیں۔ القاعدہ نے یمن میں سابق مطلق العنان صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف 2011ء کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک اور طوائف الملوکی سے فائدہ اٹھایا تھا اور اس کے جنگجوؤں نے یمن کے دو جنوبی صوبوں اور بعض دوسرے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

لیکن سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی مدد سے یمنی فورسز نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں لڑائی کے بعد القاعدہ کے جنگجوؤں کو ان کے زیر قبضہ علاقوں سے نکال باہر کیا ہے۔البتہ اب بھی وہ دور دراز مقامات اور پہاڑی علاقوں میں ا پنی خفیہ کمین گاہوں میں موجود ہیں اور وہاں سے وہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔