.

ڈنمارک کی ملکہ کے "ناراض" سرتاج کا بیگم کے ساتھ دفن ہونے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک میں شاہی محل کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ڈنمارک کی ملکہ مارگریٹ دوم کے شوہر شہزادہ ہنرِک نے ملکہ کے برابر دفن ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

فرانسیسی نژاد 83 سالہ شہزادہ ہنرِک یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ ملکہ کے خصوصی قبرستان میں دفن ہونا نہیں چاہتے۔ کہا جا رہا ہے کہ ملکہ نے اپنے شوہر کے اس فیصلے کو قبول کر لیا ہے۔

ڈنمارک کے شاہی دیوان کی اطلاعات کی خاتون ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ شہزادہ ہِنرک نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا ہے کہ انہیں اپنی خواہش کے مطابق خطاب اور ذمے داریاں نہیں مل سکیں۔ ہِنرک کو ملکہ کا شوہر ہونے کے باوجود "شاہ" کا خطاب نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ سے ناراض رہے تاہم حالیہ چند برسوں میں ان کا عدم اطمینان کافی بڑھ گیا۔

اگرچہ شہزادہ ہِنرک نے Roskilde Cathedral کے شاہی قبرستان میں اپنی اہلیہ کے برابر دفن ہونے سے انکار کر دیا ہے تاہم ان کی تدفین ڈنمارک میں ہی عمل میں آئے گی۔

ڈائریکٹر اطلاعات کے مطابق شہزادہ ہنری ڈنمارک سے محبت کرتے ہیں اور انہوں نے ڈنمارک کی خاطر 50 برس سے زیادہ کام کیا ، لہذا وہ ڈنمارک میں دفن ہونا چاہتے ہیں۔

فرانسیسی نژاد Henri Marie Jean André de Laborde de Monpezat کی اپنی اہلیہ سے پہلی ملاقات 1965 میں ہوئی جب وہ لندن میں فرانسیسی سفارت خانے میں کام کرتے تھے۔

بعد ازاں 1967 میں مارگریٹ دوم سے شادی کے بعد انہیں "حکمراں ملکہ کے شوہر شہزادے" کا خطاب دیا گیا۔ تاہم وہ بارہا یہ باور کرا چکے ہیں کہ وہ "شاہ" کا خطاب حاصل کرنا چاہتے تھے۔

شہزادہ ہِنرک گزشتہ برس عملی زندگی سے ریٹائر ہو کر اپنے خطاب سے دست بردار ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے وہ محدود سطح پر سرکاری ذمے داریوں میں شریک ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہِنرک اس وقت ملکہ کے شوہر ہیں اور سرکاری طور پر دونوں شخصیات اکٹھا رہ رہی ہیں تاہم ہِنرک اپنا زیادہ تر وقت فرانس میں اپنے ذاتی فارم پر گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

1