.

سعودی یونیورسٹی میں لبنانی خاتون لیکچرار کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں شمالی سرحدی یونیورسٹی میں ایک لبنانی خاتون استانی کی تقرری کو غیر قانونی قرار دے کر اس کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شمالی علاقے کے گورنر شہزادہ فیصل بن خالد بن سلطان بن عبدالعزیز نے یونیورسٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر لبنانی خاتون کی بہ طور استانی تقرری کی رپورٹ پیش کرے۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ شمالی حدود کے علاقے میں قائم یونیورسٹی نے ایک ایسی لبنانی خاتون کے ساتھ بہ طور استانی معاہدہ کیا ہے جو لبنان میں قانون کی خلاف ورزیوں کی مرتکب رہ چکی ہے۔

شہزادہ فیصل نے جامعہ الحدود الشمالی کے ڈائریکٹر کو لبنانی خاتون کے ساتھ کیے گئے معاہدے سمیت اس کے بارے میں تمام تفصیلات فوری طور پر پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

علاقائی گورنر کا کہنا ہے کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد نے بہترین معیار تعلیم کواپنی اولین ترجیح قرار دے کر تمام سرکاری اور غیرسرکاری تعلیمی اداروں کو قوانین کی سخت پابندی کا حکم دے رکھا ہے۔ کسی ادارے کو خلاف قانون تقرری کا اختیار ہرگز نہیں دیا جائے گا۔

ادھر سعودی وزیر تعلیم ڈاکٹر احمد العیسیٰ نے بھی جامعہ الحدود الشمالیہ کے ڈائریکٹر کو لبنانی خاتون کی بہ تو استانی تقرری کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزیر تعلیم نے ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی رپورٹ طلب کی ہے۔

وزارت تعلیم کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اطلاعات آئی ہیں کہ لبنان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ یونیورسٹی نے خلاف ضابطہ معاہدہ کیا ہے۔ کیونکہ بہ طور لیکچرار شامل کی گئی لبنانی خاتون اپنے ملک میں خلاف قانون سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں۔

ادھر یونیورسٹی کے ترجمان مفضی الشراری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی خاتون لیکچرار منیٰ ولید بعلبکی کی لبنان میں خلاف قانون سرگرمیوں میں ملوث رہنے کی تحقیقات کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر نے وزیر تعلیم کی ہدایت پر خاتون لیکچرار کے بارے میں چھان بین کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے جو ایک ہفتے کے اندر اندر رپورٹ وزیرتعلیم کو پیش کرے گی۔

خیال رہے کہ لبنانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ سعودی عرب کی ایک یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر کے طور پر تعینات کی جانے والی لبنانی خاتون اپنے ملک میں کینسر کی ادویہ فروخت کرنے سمیت متعدد دیگر جرائم میں ملوث رہی ہیں۔