.

عرب اتحاد یمن میں امدادی آپریشن میں رکاوٹ نہیں: المالکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم عرب اتحاد کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اتحادی فوج یمن میں امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کررہی بلکہ متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے میں معاون و مدد گار ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اتحادی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایک بیان میں ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان اطلاعات کو مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ اتحادی فوج کی رکاوٹوں کے باعث صنعاء میں اقوام متحدہ کے امدادی ہوائی جہازوں کو ایندھن کی سپلائی نہیں کی جاسکی۔

ترجمان نے کہا کہ صنعاء کا ہوائی اڈہ یمنی فوج کے کنٹرول میں نہیں بلکہ اس پر بدستور باغیوں کا قبضہ ہے۔ اس ہوائی اڈے پر کھڑے اقوام متحدہ کے ترقیاتی دارے کے مال بردار جہازوں کو ایندھن کی سپلائی روکنے کا اتحادی فوج سے کوئی تعلق نہیں۔ امدادی جہازوں کو حوثی باغیوں اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کی جانب سے سپلائی بند کی گئی ہے۔

کرنل المالکی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام یمن میں ترقیاتی ادارے کے ڈائریکٹرکی طرف سے اتحادی فوج پر ایندھن کی سپلائی میں رکاوٹ عاید کرنے کا الزام بلا جواز ہے۔ اتحادی فوج نے کسی مقام پر امدادی آپریشن میں رکاوٹ کھڑی نہیں کی ہے۔ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تمام پروازوں کو باغی خود ڈیل کررہے ہیں۔عرب اتحاد اور یمنی حکومت کی طرف سے صنعاء کو امداد کی فراہمی کی اجازت نہ دینے کا الزام قطعی بے بنیاد اور غلط معلومات کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتحادی فوج یومیہ کی بنیاد پر باغیوں کے زیرتسلط یمنی علاقوں کو تیل کی ترسریل کی اجازت دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ امدادی سامان، خوراک اور ادویات بھی باغیوں کے علاقوں میں لے جانے کی مکمل اجازت ہے۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کو 29 جولائی کو آخری اجازت نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں امدادی قافلوں کو صنعا لے جانے کے ساتھ ساتھ باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں تک ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔