.

برطانوی فیشن ماڈل کے اغواء کے بعد آن لائن نیلامی کی کوشش

دو سالہ بچے کی وجہ سے ماڈل کو چھوڑ دیا، ملزم گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان فیشن ماڈل کے اٹلی میں اغواء اور اس کی جنسی مقاصد کے لیے آن لائن نیلامی کی خبر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مگر خوش قسمتی سے فیشن ماڈل جرائم پیشہ گروہ کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اٹلی میں اغواء کے بعد چھ روز تک ایک فارم ہاؤس میں قید رہنے والی دو شیزہ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تاہم اس کی تصاویر منظر عام پرآئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق فیشن ماڈل کو ’بلیک ڈیتھ گروپ‘ نامی ایک جرائم پیشہ مافیا نے اغواء کیا جو اسے جنسی مقاصد کے لیے فروخت کرنا چاہتا تھا۔

اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے متاثرہ برطانوی لڑکی نے بتایا کہ وہ اٹلی میں ایک فیشن شو میں شرکت کے لیے گئی تھی کہ شمالی اٹلی کے شہر میلان میں نامعلوم افراد نےاس کی کار کو روکا۔ اسے نشہ آور بوٹی سونگھائی جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی۔ بعد ازاں اسے 190 کلو میٹر دور ٹورینو شہر کے ایک فارم یاؤس میں چھ دن تک مسلسل قید کیا گیا۔ تاہم بعد ازاں اغواء کاروں نے اسے محض اس وجہ سے رہا کردیا کہ اس کا ایک دوسال کا بچہ ہے۔

اطالوی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مرکزی ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس کی شناخت ’لوکاش ھیرپا‘ کے نام سے کی گئی ہے جو پولینڈ کا رہنے والا ہے۔ پولیس نے ملزم کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ اس نے اعتراف کیا ہے کہ برطانوی ماڈل کو اغواء کے بعد ’کیٹامین‘ نامی ایک نشہ آور چیز دی گئی تھی جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہوگئی۔ اسے ایک فارم ہاؤس میں بند کردیا گیا اور انٹرنیٹ پراس کی نیلامی کا اشتہار چلایا گیا۔ جنسی مقاصد کے لیے نیلامی کے اشتہار پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا۔ ان میں ایک برطانوی بھی تھا جو مغوی لڑکی کو خریدنے کے لیے اٹلی روانہ ہوچکا تھا۔

ملزم نے بتایا اس نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر مغوی برطانوی لڑکی کو تین لاکھ 50 ہزار ڈالر کے عوض جنسی مقاصد کے لیے نیلام کرنے کی اسکیم تیار کی تھی۔اس کی نیلامی کا اشتہار جنسی مقاصد میں معاونت کرنے والی ’ڈارک ویب‘ پر پوسٹ کیا گیا۔ اس ویب سائیٹ پر شہوت کے لیے پیش کرنے والی خواتین اپنی تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔

برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے مغوی لڑکی نے بتایا کہ اغواء کاروں نے اسے فروخت کرنے کا مکمل منصوبہ تیار کرلیا تھا مگر جب انہیں پتا چلا کہ اس کا ایک بیٹا ہے جس کی دو عمر صرف دو سال ہے۔ تو انہوں نے اغواء کو غلطی قرار دے کر اسے چھوڑ دیا۔

برطانوی دوشیزہ کا کہنا ہے کہ رہائی کے وقت ملزمان نے اسے تاکید کی تھی کہ وہ اپنے اغواء کے بارے میں کسی کو نہیں بتائے گی۔ اس نے کچھ دنوں تک زبان بند رکھی مگر جلد ہی پولیس کو اس کا علم ہوگیا۔ انہوں نے چھاپہ مار کر اغوا کار کو حراست میں لے لیا ہے جس نے پولیس کے سامنے اقبال جرم کیا ہے۔