.

روحانی کی حکومت نے 2.4 ارب ڈالر مالیت کے نوٹ چھاپے : ایرانی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای کے قریب شمار کیے جانے والے سرکاری اخبار "کیہان" نے انکشاف کیا ہے کہ صدر حسن روحانی کی حکومت نے اپنی پہلی مدت کے دوران مقابل اثاثوں کے بغیر 84 ارب تورمان یعنی تقریبا 2.4 ارب ڈالر کے کرنسی نوٹ چھاپے۔

اخبار نے ہفتے کے روز کی اشاعت میں کہا ہے کہ روحانی کی حکومت کے دوران ملک کے مرکزی بینک نے بے ضابطگی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے جہاں احمدی نژاد کی سابقہ حکومت سے زیادہ مالیاتی نوعیت کی انارکی پھیلی نظر آئی۔

اخبار نے بتایا کہ اگرچہ حالیہ حکومت کے ذمے داران کرنسی نوٹوں کی اندھادھند چھپائی پر سابقہ حکومت کو استہزائیہ تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تاہم حالیہ حکومت خود اس سے زیادہ برا معاملہ کر چکی ہے۔

کیہان اخبار نے مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگست 2013 سے مارچ 2017 تک صدر حسن روحانی کی پہلی مدت صدارت کے 44 ماہ کے دوران 84 ارب تومان (2.4 ارب ڈالر) کے قریب کرنسی بنا مقابل اثاثوں کے چھاپی گئی۔ یہ رقم احمدی نژاد کی پوری 8 برسوں کی حکومت کے دوران چھاپی گئی کرنسی کی مالیت سے زیادہ ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے فروری میں 4.5 ارب ڈالر مالیت کے بونڈز جاری کرنے کی منظوری دی تھی تا کہ ایران کے عام بجٹ کا خسارہ پورا کیا جا سکے۔

ایران میں 1979 کے اواخر میں رضا شاہ پہلوی کی حکومت کے ختم ہونے کے بعد سے مالیاتی بونڈز کا اجرا دیکھنے میں نہیں آیا۔ تاہم اب غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے واسطے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

معیشت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مقابل اثاثوں کے بغیر کرنسی نوٹوں کے چھاپے جانے سے قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ملکی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملکی کرنسی مکمل طور پر مندی کا شکار ہو کر پوری معیشت کو زمین بوس کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ بالخصوص جب کہ لوگ غیر ملکی کرنسی خریدنے میں مصروف ہوں۔