.

’جنیوا8‘ اجلاس میں شام میں سیاسی انتقال اقتدار پربات چیت ہوگی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماسکو نے شام میں مسلح اپوزیشن کے نمائندوں کے ساتھ چھ گورنریوں حلب، ادلب، دمشق، حماۃ، حمص اور القنیطرہ میں جنگ بندی کے موضوع پر بات چیت شروع کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی حکومت کی طرف سے یہ موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی حمص گورنری میں روس کی مساعی سے فریقین جنگ بندی اور سیف زون کے قیام پر متفق ہوئے ہیں۔ شمالی حمص میں جنگ بندی پرعمل درآمد تین اگست سے جاری ہے۔

روس کی جانب سے شام میں دو علاقوں کو سیف زون قرار دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ایک سیف زون جنوب مغربی شام میں جس پر عمل درآمد نو جولائی کو کیا گیا اور دوسرا دمشق میں میں مشرقی غوطہ کا اعلان جس پر 22 جولائی کو عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔

ستمبر مذاکرات کی علامتی اہمیت

روس کی جانب سے صدر بشارالاسد کو اقتدار پر برقرار رکھنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ شام میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے گئے۔ اس وقت روسی حکومت شام میں عرب، علاقائی ممالک اور امریکا کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے لیے کوششیں کررہا ہے۔ ماسکو یہ کوششیں ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب 30 ستمبر 2017ء کو شام میں روسی فوج کی مداخلت کے دو سال مکمل ہوجائیں گے۔

آئندہ ماہ ہی اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن دی میستورا شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ نیا دور ’جنیوا 8‘ کے عنوان سے ہوگا۔ جنیوا 8 مذاکرات کا اعلان انہوں نے 15 جولائی کو جنیوا 7 اجلاس کے کچھ ہی دیر بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کردیا تھا۔

دی میستورا نے بھی پریس کانفرنس کے دوران شام میں کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ انا کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے مگر کوئی بڑا ’بریک تھرو‘ نہیں ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی رجیم سیاسی انتقال اقتدار پر بات چیت کے لیے آمادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ چار اہم پوائنٹس جن میں انتقال اقتدار کا معاملہ بھی شامل ہے پر بات چیت کی تیاری کرے۔

مذاکراتی حکمت عملی

دی میستورا نے کہا تھا کہ شامی حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ یہی ان کی مذاکراتی اسٹریٹیجی ہے۔ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ شام میں مختلف متحارب قوتوں کے اپنے اپنے مواقف ہیں اور وہ ان سے دست بردار نہیں ہونا چاہتے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کے موقف میں بعض چیزیں مشترک ہیں۔ ان میں قرارداد 2254 کے اعلان کے مطابق کم سے کم مشترکات پر فریقین کو متفق کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

شامی اپوزیشن کے مذاکرات کار ڈاکٹر نصر الحریری نے جنیوا مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن مشترکہ سیاسی موقف اپنانے کی کوشش کررہی ہے۔ ہم اپنے موقف میں شامی حکومت کو شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر اسدرجیم سیاسی تبدیلی کے عمل میں رخنہ اندازی کی مرتکب ہے۔

جنیوا میں ہونے والے شام سے متعلق 7 ویں اجلاس کے بعد شامی حکومت کے وفد نے مایوسی کا اظہارکیا مگرماسکو فورم کے چیئرمین قدری جمیل نے اس کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جنیوا 7 میں کسی پیش رفت سے انکار کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ساتویں جنیوا اجلاس میں بہت سی نئی چیزیں سامنے آئی ہیں جو جنیوا 8 کے سیشن میں ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھانے میں مدد گار ہوسکتی ہیں۔

تاہم شامی حکومت کے مذاکرات بشارالجعفری نے قدری جمیل کے بیان کے رد عمل میں بالواسطہ طور پر اپنا موقف بیان کیا اور کہا کہ شامی سپریم مذاکراتی کونسل کے ساتھ حکومتی وفد کے براہ راست مذاکرات کا دور اور نزدیک کوئی امکان نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنیوا 7 میں صرف شام میں انسداد دہشت گردی پر بات چیت کی گئی۔ تاہم اس کے جواب میں اقوام متحدہ کے امن مندوب نے واضح الفاظ میں کہا کہ آپ جن لوگوں کو دہشت گرد قرار دینے کی بات کرتے ہیں پہلے انہیں سلامتی کونسل سے دہشت گرد قرار دلوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گیند ایک بار پھر اسد رجیم کے کورٹ میں ہے۔ شام میں انسداد دہشت گردی کی سب سے بڑی ضمانت مسئلے کا سیاسی حل ہے۔