.

محض 800 افراد پر مشتمل یہودی فرقہ جو بیت المقدس کو قبلہ نہیں مانتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہت سے لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں ہوں گے کہ یہودیوں کا ایک فرقہ ایسا بھی ہے جس کے پیروکاروں کی تعداد صرف 800 افراد ہے۔

یہودیوں کے اس فرقے کا نام 'سامریہ' ہے جس کے پیروکاروں کا ایک حصّہ مغربی کنارے کے شہر نابلس بالخصوص جبلِ جرزیم میں سکونت پذیر ہے۔ اس اقلیت میں شامل لوگوں کے پاس تین پاسپورٹ ہوتے ہیں جن میں فلسطینی ، اردنی اور اسرائیلی شامل ہیں۔ یہ لوگ یہودی مذہب کے پیروکاروں کی طرح بیت المقدس کو اپنا قبلہ نہیں مانتے۔

اس فرقے کے لوگ فلسطینی لہجے میں عربی زبان کے علاوہ عبرانی زبان بھی بولتے ہیں۔ سامریہ فرقے کے نزدیک اُن کی تورات صحیح ہے حب کہ دیگر تورات "تحریف شدہ" ہیں۔

نابلس میں جبلِ جرزیم کے علاوہ اس فرقے کے کچھ لوگ تل ابیب کے قریب رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے فرقے کے باہر شادی نہیں کرتے اور صرف سامریوں کے ہاتھ کا ذبیحہ کھاتے ہیں۔

سامریہ فرقے کے لوگ فلسطینی معاشرے میں انتہائی قدرتی انداز سے ملے جلے رہتے ہیں اور وہ عام اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'وفا' کے مطابق خود کو تورات کا حقیقی محافظ قرار دینے والے سامریوں کی تعداد تقریبا 790 ہے۔ ان میں کچھ لوگ نابلس میں رہتے ہیں جب کہ دیگر افراد 1948ء میں قبضے میں لی گئی فلسطینی اراضی میں "حولون" کے علاقے میں رہتے ہیں۔ یہ تورات کے تہواروں کو مناتے ہیں جن کی تعداد سات ہے۔ ان کے نام الفسح، الفطير، الحصاد، عبرانی سال نو ، الغفران، العرش اور فرحت التورات ہیں۔

سامری فرقہ اپنی نسبت بنی اسرائیل سے منسوب 12 خاندانوں میں سے 3 خاندانوں کی طرف کرتا ہے۔ یہ خاندان حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے لاوی اور حضرت یوسف علیہ السلام کے دو بیٹوں منسی اور افرائیم کی نسل سے ہیں۔

سامریوں کے نام کے حوالے سے دو امکانات بیان کیے جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ سامری کا لفظ عبرانی زبان کے لفظ "شامر" کی بگڑی ہوئی صورت ہے جس کا معنی "پہرے دار" یا "محافظ" ہے۔ دوسرا بیان یہ ہے کہ اس نام کا تعلق بنی اسرائیل کے ایک شخص سے ہے جس کو سامری پکارا جاتا تھا۔

آج کل سامری فرقے کے لوگ پہلے بیان کو اپنے فرقے کی وجہ تسمیہ قرار دیتے ہیں۔