.

صدر ٹرمپ کے سخت لب ولہجے کا مقصد شمالی کوریا کو پیغام دینا ہے : ٹیلرسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شمالی کوریا کے خلاف سخت لب و لہجے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد اس ملک کے لیڈر کم جونگ ان کو ایک مضبوط پیغام دینا ہے کیونکہ وہ ایسی ہی زبان کو سمجھتے ہیں اور وہ سفارتی زبان سمجھنے سے قاصر ہیں۔

وہ بحرالکاہل میں امریکا کے زیر انتظام ایک جزیرے گوام کے لیے سفر کے دوران میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ شمالی کوریا نے اسی جزیرے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ ان کے خیال میں شمالی کوریا سے درپیش خطرہ حقیقی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا:’’میرے خیال میں امریکیوں کو رات میں سکون کی نیند سونا چاہیے ،انھیں گذشتہ چند روز سے جاری ان گیدڑ بھبکیوں پر کوئی تشویش لاحق نہیں ہونی چاہیے‘‘۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز شمالی کوریا کو خبردار کیا تھا کہ ’’اگر وہ امریکا کے لیے کسی خطرے کا موجب بنا تو اس کو غیظ وغضب کا نشانہ بننا پڑے گا‘‘۔ان کے اس بیان سے قبل شمالی کوریا نے گوام پر میزائل داغنے کی دھمکی دی تھی۔

ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا :’’ صدر ٹرمپ صرف اس بات کا اعادہ کررہے تھے کہ امریکا کسی بھی حملے کی صورت میں اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت کا حامل ہے اور ہمارے اتحادی اور ہم اپنا دفاع کریں گے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے حوالے سے یہ ہفتہ بہت اچھا رہا ہے۔انھوں نے اس ضمن میں شمالی کوریا کے خلاف اقوام متحدہ کی نئی پابندیوں اور ایشیا میں عالمی لیڈروں کے سخت بیانات کا حوالہ دیا ہے۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ چین اور روس کی شمولیت سے شمالی کوریا کے خلاف بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا اور اس کو اس کی جوہری خواہشات پر نظر ثانی اور مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا جائے گا۔

ریکس ٹیلرسن کے اس بیان کے بعد صدر ٹرمپ نے ٹویٹر پر ایک نئی پوسٹ میں مزید سخت لہجے میں کہا ہے کہ ’’ صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد میرا پہلا حکم امریکا کے جوہری ہتھیاروں کو جدید بنانے سے متعلق تھا اور یہ اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہیں‘‘۔