.

قطر بحران سے کیسے نکل سکتا ہے؟ اماراتی وزیر نے شرائط بتا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں قطری بحران کو صرف خلیج کے خطے ہی کا تنازع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ قطر کو اس کے حل کے لیے عرب ممالک کے گروپ چار سے معاملہ طے کرنا چاہیے اور صرف واشنگٹن اور دوسرے مغربی دارالحکومتوں کی تشویش ہی کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ قطر پڑوسی ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کے مضمرات کو تسلیم کرکے اس بحران سے نکلنے کا آغاز کرسکتا ہے۔انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ہے کہ تنازع کو اس خطے تک ہی محدود رہنا چاہیے اور حقائق کو تسلیم کر کے اس بحران کو حل کیا جاسکتا ہے لیکن غیر ملکی دباؤ کی وجہ سے ان سے گریز سے کام نہیں بنے گا۔بحران کا سامنا کرنے کے لیے حوصلہ پیدا کیا جائے اور پھر اس کے حل کی راہ ہموار ہوگی۔

انھوں نے مزید لکھا ہے: ’’ اعتماد میں کمی اور ( پڑوسی ممالک کے امور میں مداخلت پر)اکسانے کے ریکارڈ کے پیش نظر اب حوصلے اور شفافیت کی ضرورت ہے‘‘۔

امریکا نے اسی ماہ چار عرب ممالک اور قطر کے درمیان جاری بحران کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کشیدگی سے اس کی فوجی اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور خطے میں ایران کے اثر ورسوخ میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن اور برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر مارک سیڈویل نے حال ہی میں کویت کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ مغرب کے اتحادی عرب ممالک کے درمیان بحران کو جلد سے جلد حل کیا جانا چاہیے۔

قطر میں العبید کے علاقے میں امریکا کا فوجی اڈا ہے اور امریکی ماہرین اس کو بند کرنے پر زوردے رہے ہیں۔سابق امریکی سفارت کار ڈینس راس یہ کہہ چکے ہیں ’’ قطری امریکا کے اس فوجی اڈے اور وردیوں میں ہمارے مردو خواتین کو اپنے مفادات کے لیے ایک سکیورٹی ضمانت کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور قطریوں کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ یہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ایک اہم عسکری تنصیب ہے‘‘۔