.

پیرس : فرانسیسی فوجیوں کو کار تلے روندنے والا ملزم گرفتار ، 6 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت پیرس کے نواح میں گشت پر مامور فوجیوں کو کار تلے روندنے والے مشتبہ ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔اس نے بدھ کی صبح اپنی تیز رفتار کار تلے فوجیوں کو کچل دیا تھا جس کے نتیجے میں چھے افراد زخمی ہوگئے ہیں اور ان میں دو کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیرس کے شمال مغرب میں واقع علاقے لیولیوس پیرٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے ( 0600 جی ایم ٹی) پیش آیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ ملزم نے جان بوجھ کر فوجیوں پر چڑھائی تھی۔ اس کے بعد وہ کار بھگا کر لے جانے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن بعد میں اس کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور پولیس نے اس کو گولی مار کر زخمی کردیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس مشتبہ شخص کی عمر پینتیس ، چالیس سال کے درمیان ہےاور اس کو فرانسیسی دارالحکومت کے شمال میں پولیس نے ایک موٹر وے پر گرفتار کیا ہے۔وہ مبینہ طور پر اپنی بی ایم ڈبلیو کار پر فرار ہوکر کالیس کی بندر گاہ کی جانب جارہا تھا۔

پیرس کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے انسداد دہشت گردی یونٹ نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔اس نے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی اور فوجیوں کو جان بوجھ کر ہلاک کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

فرانسیسی وزیر دفاع فلوررینس پارلی نے فوجیوں کو کار تلے روندنے کی مذمت کی ہے اور اس کو ایک بزدلانہ فعل قرار دیا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس سے فوجیوں کے فرانسیسی عوام کے تحفظ کے لیے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

واضح رہے کہ فرانس میں نومبر 2015ء سے ہنگامی حالت نافذ ہے اور اس کے بعد سے سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے کیے جاچکے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایفل ٹاور کی حدود سے ایک اٹھارہ سالہ نفسیاتی مریض کو چاقو لہرانے اور اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔اس نے بعد میں تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ وہ ایک فوجی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔