.

تنقید کے بعد روحانی کی کابینہ میں تین خواتین کی شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں دوسری بار صدر منتخب ہونے والے اصلاح پسند حسن روحانی نے اپنی نئی کابینہ حتمی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے، مگر انہیں کابینہ کی تشکیل میں شدید تنقید کا بھی سامنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی نئی کابینہ میں کسی خاتون کو کوئی عہدہ نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی سنی مسلمان کو اس میں شامل کیا گیا۔ تنقید کے بعد صدر روحانی نے تین خواتین کو وزارتوں کے قلم دان سونپنے کی منظوری دی ہے۔

اس کے علاوہ صدر حسن روحانی دو صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے دو خواتین کو نائب صدر کے عہدے پر تعینات کریں گے۔ اس کے لیے انہیں پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کی ضرورت نہیں۔

ایران کی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر روحانی نے معصومہ ابتکار کو صدر کی معاون خصوصی برائے خواتین و عائلی امور، ولعیا جنیدی کو عدالتی مسائل کی معاون اور شاھندخت مولا وردی کو شہری حقوق کے لیے معاون مقرر کیا ہے۔

سابقہ حکومت کی نسبت روحانی کی موجودہ حکومت میں خواتین کی تعداد کم ہے۔ پچھلی کابینہ میں تین نائب صدور خواتین کے ساتھ ایک صدر کی معاون خصوصی بھی شامل تھیں۔

کابینہ میں ایک اضافی وزیر اور صدر کے مقربین میں مزید نو ارکان شوریٰ کی شمولیت ابھی باقی ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں نائب صدور کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری ضروری نہیں۔ اس کے برعکس وزراء کو فردا فردا مجلس شوریٰ سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔

وزراء کی اوسط عمر 58 سال مقرر ہے۔ پچھلی حکومت میں اوسط عمر 57 سال تھی۔ حالانکہ کابینہ میں شامل وزیر مواصلات اور سائنس وٹیکنالوجی محمد جواد آذری جھرمی کی عمر 36 سال تھی۔