.

دو تہائی امریکی نہیں جانتے کہ شمالی کوریا کہاں واقع ہے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شاید آپ کو یہ بات ورطہ حیرت میں ڈال دے کہ "دو تہائی امریکی یہ نہیں جانتے کہ شمالی کوریا کہاں واقع ہے اور نہ ہی وہ دنیا کے نقشے پر اس کا محلِ وقوع متعین کر سکتے ہیں"۔ یہ دل چسپ انکشاف حال ہی میں "مارننگ کنسلٹ" کمپنی کی جانب سے امریکا میں کرائے جانے والے ایک سروے میں سامنے آئی۔

واضح رہے کہ واشنگٹن اور پیونگ یانگ کے درمیان بحران میں شدت آتی جا رہی ہے اور فریقین کی جانب سے دھمکیوں کا تبادلہ جاری ہے۔

مذکورہ سروے کے مطابق صرف 36% امریکی شہری دنیا کے نقشے میں شمالی کوریا کا درست محلِ وقوع متعین کر سکے جب کہ 64% یعنی تقریبا دو تہائی امریکی شہری یہ بتانے میں ناکام رہے کہ شمالی کوریا کہاں واقع ہے جو انہیں بم باری کی دھمکیاں دے رہا ہے اور ان کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ الزامات ، دھمکیوں اور تُند و تیز بیانات کے تبادلے میں مصروف ہے۔

سروے میں شمالی کوریا کا جغرافیائی محلِ وقوع متعین کرنے میں کامیاب ہونے والے امریکی شہری وہ ہیں جو واشنگٹن اور پیونگ یانگ کے درمیان بحران کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی جانب زیادہ میلان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ فوری طور پر شمالی کوریا پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے اور اُس کے سب سے بڑے حلیف چین پر دباؤ بڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

امریکی سروے کے مطابق جو لوگ نقشے پر شمالی کوریا کا محل وقوع متعین نہیں کر سکے یہ وہ لوگ ہیں جو پیونگ یانگ کے ساتھ پرانے ذرائع کے ساتھ مثلا وہاں زمینی افواج کو بھیج کر نمٹنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ اس کے مقابل ان میں بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے زور دیا کہ شمالی کوریا کے خلاف سفارتی یا عسکری کسی قسم کا کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں درست جغرافیائی محل وقوع متعین کرنے میں ناکام بعض افراد نے پیونگ یانگ پر سفارتی دباؤ کو ترجیح دی۔

یاد رہے کہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی میں کئی ماہ سے اضافہ ہو گیا ہے بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد.. جب کہ واشنگٹن پیونگ یانگ کو دنیا کے لیے بڑے خطروں میں سے ایک خطرہ شمار کرتا ہے۔