.

شرپسند حوثی باغیوں کے ہاتھوں یمن میں قبریں بھی غیر محفوظ

باغی عناصر قبرستانوں کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کی جانب سے سرکاری املاک ہتھیانے کے ساتھ ساتھ اب قبرستانوں کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے یہ اطلاعات ملی ہیں کہ حوثی باغی قبرستانوں کو اپنی املاک میں تبدیل کرتے ہوئے ان پر تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قبرستانوں کو نشانہ بنانے اور قبروں کی بے حرمتی کا تازہ واقعہ حال ہی میں وسطی یمن کے علاقے ’اب‘ میں پیش آیا جہاں حوثیوں کے ایک نام نہاد جج نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مسلح دہشت گردوں کی معاونت سے قبرستان کی اراضی کی کھدائی شروع کردی۔

اب گورنری کے ایک مقامی عہدیدار احمد الباکری نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے الظہار گورنری میں ایک قبرستان کی اراضی پر رہائشی مکانات کی تعمیر کے لیے قبروں کی بے حرمتی کی۔ دسیوں قبروں کو اکھاڑ پھینکا اور شہریوں کو اس قبرستان میں اپنے مردے دفن کرنے سے سختی سے منع کردیا ہے۔

الباکری کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے ایک نام نہاد جج کی طرف سے کہا دھونس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ قبرستان میں رہائشی مقاصد کے لیے تعمیرات جاری رکھے گا، اگر کسی نے اس کی مخالفت کی کوشش کی تو اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

خیال رہے کہ سنہ 2014ء کے بعد سے یمن میں جاری بغاوت کے دوران باغیوں نے بڑے پیمانے پر سرکاری اور نجی املاک کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔ باغیوں کی دست برد سے قبرستان بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔