.

شمالی کوریا گوام کو کیسے میزائل حملے میں نشانہ بنائے گا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شمالی کوریا کے خلاف دھمکی آمیز بیانات مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریانے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کو مسترد کردیا ہے اور امریکا کے زیر انتظام بحرالکاہل میں واقع ایک جزیرے گوام پر میزائل حملے کے منصوبے کا ا علان کیا ہے۔

شمالی کوریا نے امریکا تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری کا کام تیز کردیا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے درمیان تند وتیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا کو امریکا کے خلاف جارحیت کا سخت خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔شمالی کوریا نے جمعرات کے روز اس دھمکی کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جاپان کے اوپر سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کو گوام کی جانب داغنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔یہ میزائل گوام سے تیس ،چالیس کلومیٹر دور گرے گا۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبررسان ایجنسی ( کے سی این اے ) نے ایک رپورٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ ’’اس شخص کے ساتھ مناسب ڈائیلاگ ممکن نہیں ہے اور اس کے خلاف مطلق طاقت ہی کام کرسکتی ہے‘‘۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی فوج اگست کے وسط تک اپنا منصوبہ مکمل کر لے گی اور پھر وہ صدر کم جونگ اُن کے حکم کی منتظر ہوگی۔

واضح رہے کہ گوام کا جزیرہ شمالی کوریا سے جنوب مشرق میں تین ہزار کلومیٹر دور واقع ہے۔یہاں 163000 افراد رہ رہے ہیں اور یہاں امریکا کا ایک بحری اڈا ہے۔ ایک آبدوز اسکوارڈرن ، ایک کوسٹ گارڈ اور ایک ائیربیس ہے۔