.

قطر اپنے 50% روایتی سرمایہ کاروں سے محروم: بُلوم برگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی بلوم برگ کا کہنا ہے کہ قطر اپنے نصف سرمایہ کاروں سے ہاتھ دھو چکا ہے اور اب وہ نئے سرمایہ کاروں کو لانے کے لیے ایشیا کا رخ کر رہا ہے۔

ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قطر نیشنل بینک ، کمرشل بینک آف قطر اور دوحہ بینک نے مالی رقوم کے حصول کے آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے جن مین قرضے اور بونڈز شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب اور دیگر تین ممالک کی جانب دو ماہ سے قطر کا بائیکاٹ جاری ہے جس کے نتیجے میں قطر کے بینکوں میں غیر ملکی رقوم میں شدید کمی آئی ہے اور جون کے مہینے میں ان رقوم کا حجم گزشتہ دو برسوں کے دوران نچلی ترین سطح پر آ گیا۔

ماہرین کے مطابق قطر کے قرضوں بعض ایشیائی سرمایہ کاروں کو لانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں جب کہ بعض دیگر کے نزدیک حالیہ سطح دوحہ کے بینکنگ نظام میں کریڈٹ کے خطرے کی عکاسی نہیں کر رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمت گری بنیادی طور پر کرنسی اور قرضے کی مدت پر منحصر ہے۔ اگر قطر نے ڈالر میں قرضوں کی مدت کو پانچ برس تک بڑھایا تو منڈیاں 3.50-3.75% تک شرحِ سُود سے کم ہر گز قبول نہیں کریں گی۔

قطر نیشنل بینک کے چیف ایگزیکٹو نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ایشیا میں بینک کی توسیع عرب ملکوں کے بائیکاٹ کے اثرات کی تلافی میں مددگار ہو گی اور بینک کا ہدف ہے کہ مقامی منڈی سے حاصل آمدنی پر انحصار کو 2020 تک 63% سے کم کر کے 50% تک لایا جائے۔

بلوم برگ ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کئی خلیجی بینکوں نے قطری بینکوں میں اپنی جمع شدہ رُقوم کو مدت پوری ہونے پر نکال لینے کا ارادہ کیا ہے۔ قطری بینکوں میں موجود مجموعی رقوم میں 22% حصہ غیر ملکی رُقوم کا ہے۔