.

ٹرمپ اور ٹیلرسن کے بیانات میں تضاد ، امریکی وزارت خارجہ کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوارٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے بیانات میں تضاد کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ شمالی کوریا کے حوالے سے امریکا یکساں آواز میں گفتگو کر رہا ہے۔

بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں ہیدر کا کہنا تھا کہ "وہائٹ ہاؤس ہو یا وزارت خارجہ اور یا پھر وزارت دفاع.. ہم سب ایک آواز ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "درحقیقت پوری دنیا اس وقت ایک آواز ہو کر بات کر رہی ہے اور اس کا مظاہرہ ہم نے ایک ہفتہ قبل سلامتی کونسل میں پیونگ یانگ کے خلاف مزید پابندیوں سے متعلق قرار داد کی منظوری کی شکل میں دیکھ لیا"۔

ترجمان کا یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہ نما کِم جونگ اُن کو جاری انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ کِم جونگ کو اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے "آگ اور غضب" کا سامنا ہو گا۔

تاہم دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے جنوب مشرقی ایشیا کے دورے سے امریکا واپس آتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا خیال نہیں کہ شمالی کوریا کی جانب سے "کوئی قریبی خطرہ" موجود ہے۔

خاتون ترجمان ہیدر کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے بیان دیے جانے کے بعد ٹرمپ اور ٹیلرسن نے ایک گھنٹے تک ٹیلیفون پر بات چیت کی تھی۔

ہیدر نے کہا کہ "ہمیں خطرے کی گھنٹی پر غور کرنے دیا جائے۔ محض ایک ماہ کے اندر بین البراعظمی میزائلوں کے دو تجربات ہوئے اور گزشت برس بھی دو نیوکلیئر تجربے کیے گئے"۔