.

ایرانی قاتل گینگ کا سرغنہ روحانی کی تاج پوشی کا نگران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ولایت فقیہ پر مشتمل رجیم کی جانب سے مخالفین کو کچلنے میں ملوث عناصر اہم ذمہ داریوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جاتا ہے۔ اس کا تازہ ثبوت صدر حسن روحانی کی دوسری بار صدارت کے لیے تقریب حلف برداری سے ہوتا ہے۔ اس تقریب کی تمام تر نگرانی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کے چیئرمین کے دفتر کے ڈائریکٹر ایک ایسے شخص کو سونپی گئی جو مخالف سیاسی شخصیات کی قاتلانہ حملوں میں ہلاکت میں شہرت رکھتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ میں حسن روحانی کی دوسری باربہ طور صدر تقریب حلف برداری کی نگرانی محمد جعفری صحرارودی کو سونپہ گئی تھی۔ ذرائع ابلاغ میں مسٹر صحرارودی کی تصاویر بھی شائع ہوئی ہیں اور ان تصاویر پر تبصرے بھی جاری ہیں۔

محمد جعفری سحرارودی کو ایران میں اپوزیشن کے خلاف سرگرم قاتل گینگ کا سرغنہ کہا جاتا ہے۔ موصوف نے کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمان قاسلمو کو سنہ 1990ء کے عشرے میں قاتلانہ حملے میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

صحرارودی اس وقت پارلیمنٹ کے چیئرمین علی لاری جانی کا پرنسپل سیکرٹری ہے۔

خیال رہے کہ جعفر صحرارودی ایرانی پاسداران انقلاب کا ایک اہم عہدیدار رہ چکا ہے اور اس نے سنہ 1980 سے 1988ء کے دوران عراق۔ ایران جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

جنگ کے بعد مخالفین کوکچلنے کے لیے ٹارگٹ کلنگ گینگ تشکیل دیا گیا اور اسے اس گینگ کا سربراہ مقرر کیا تھا ہے۔ اسی کی زیرنگرانی ایرانی کرد لیڈر ڈاکٹر عبدالرحمان قاسلمو اور ان کے ساتھیوں کو 13 جولائی 1989ء کو ویانا میں ایک قاتلانہ حملے میں قتل کردیا تھا۔ وہ کرد عوام کے حقوق کے لیے حکومتی وفد کے ساتھ مذاکرات کے لیے وہاں موجود تھے کہ مذاکرات کی میز پر انہیں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

اس کارروائی میں جعفر صحرارودی خود بھی معمولی زخمی ہوا تاہم اسے گرفتار کرلیا گیا اور ایران نے اسے واپس لانے کے لیے آسٹریا کے ساتھ معاہدہ بھی کیا تھا۔ چنانچہ ایرانی رجیم جلد ہی اسے واپس لے آئی تھی۔

آسٹریا سے ایران واپسی کے پانچ ماہ بعد صحرارودی اور اس کے دو ساتھیوں کے دہشت گردانہ سرگرمیوں اور کرد تحریک کچلنے کے الزام میں بین الاقوامی سطح پر گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے۔

پہلی خلیج جنگ اور صوبہ کردستان کے خود مختاری کے حصول کےآغاز میں سنہ 1990ء کے عشرے میں صحرارودی کو کردوں کا معاملہ سونپا گیا۔ سنہ 1999ء میں جامعہ تہران کے طلباء کی تحریک انتفاضہ کچلنے میں بھی اس کا اہم ہاتھ تھا۔

سنہ 2005ء میں احمدی نژاد کے صدر منتخب ہونے کے بعد علی لاری جانی نے اسے سپریم قومی سلامتی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا۔ اسے یہ عہدہ اس کی سابقہ خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے دیا گیا۔

سنہ 2005ء کے بعد صحرارودی ایرانی کردستان کا اہم سیکیورٹی عہدیدار اور عراقی کردستان کے امور کا بھی نگراں رہ چکا ہے۔

جنوری 2006ء کو صحرارودی عراقی کردستان کے دارالحکومت اربیل میں تھا جہاں امریکی فوج نے ایرانی قونصل خانے پر چھاپہ مارا اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سات اہلکار گرفتار کرلیے، تاہم عراقی کرد قیادت نے صحرارودی کو وہاں سے فرار کرادیا اور وہ زمینی راستے سے ایران داخل ہوگیا۔

اس واقعے کے چار ماہ بعد جعفر صحرارودی نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں عراق کے حوالے سے ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ دو روز تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے نمائندے بھی شریک تھے۔ کانفرنس کا مقصد عراق میں مابعد صدام امن واستحکام کے قیام پر غور کرنا تھا۔ اس اجلاس میں اس وقت کی امریکی وزیرخارجہ کونڈا لیزا رائس اور ان کے ایرانی منصب منوچہرمتقی کو آمنے سامنے بٹھایا گیا۔ متقی کے ساتھ والی سیٹ پر صحرارودی بیٹھا جسے امریکا گرفتار کرنے کی ناکام کوشش کرچکا تھا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق 2013ء کو محمد جعفری صحرارودی کی قیادت میں ایران نے ایک وفد عراقی کردستان بھیجا۔ اس وفد نےعراقی کردستان کی سیاسی قیادت سے ملاقاتین کیں اور صوبے میں انتخابات کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گروپ میں پاسداران انقلاب کے بیرون ملک سرگرم فیلق القدس گروپ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی بھی شریک تھے۔

انٹرپول کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے باوجود مسٹر صحرارودی بیرون ملک دورے کرتا رہا ہے۔ 2013ء کو جنیوا میں ایران اور مغربی ملکوں میں تہران کے متنازع ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں بھی اس نے شرکت کی تھی۔