.

کیوبا میں انوکھے حملے ، مغربی سفارت کار اپنی سماعت کھو بیٹھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کیوبا سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی سفارت کاروں کو جن "صوتی حملوں" کا نشانہ بنایا گیا اُن سے متعلق حالات اور واقعات کو منظر عام پر لایا جائے۔

ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بتانا واشنگٹن کے بس میں نہیں کہ ان پراسرار "صوتی حملوں" کا ذمے دار کون ہے۔ ٹیلرسن نے اس امید کا اظہار کیا کہ کیوبا کے حکام اس بات کو ضرور معلوم کرلیں گے کہ یہ حملے کون کر رہا ہے جو نہ صرف امریکی بلکہ دیگر ممالک کے سفارت کاروں کی جان کے لیے خطرہ ہیں۔

واضح رہے کہ واقعے کے بعد ہوانا میں متعین امریکی سفارت کار کیوبا سے کوچ کر گئے ہیں۔

کینیڈا نے بھی جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کا ایک سفارت کار کیوبا میں ذمے داریاں انجام دیتے ہوئے اپنے بہت سے امریکی ساتھیوں کی طرح سماعت سے محروم ہو گیا۔ ٹیلرسن کے مطابق امریکی سفارت کاروں کے کوچ کر جانے کی بھی یہ ہی وجہ ہے۔

ادھر ہوانا حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس نے واقعے کی "جامع اور جلد" تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اگرچہ اس پراسرار معاملے کا انکشاف رواں ہفتے سامنے آیا ہے تاہم اس کے ڈانڈے چند ماہ پہلے سے ملتے ہیں۔ رواں برس 23 مئی کو امریکا نے مزید کسی وضاحت کا انتظار کیے بغیر واشنگٹن سے کیوبا کے دو سفارت کاروں کو نکال دیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ " اس مرحلے پر ہم کسی بھی ملک یا شخص کو مورودِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے"۔

یہ معاملہ امریکا اور کیوبا کے درمیان بحال ہونے والے تعلقات کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔ یہ تعلقات نصف صدی تک منقطع رہنے کے بعد 2015 میں دوبارہ سے استوار ہوئے تھے۔ امریکی صدر کے انتخاب کے بعد ان تعلقات میں پھر سے بگاڑ آتا دکھائی دے رہا ہے کیوں کہ ٹرمپ نے ہوانا کے حوالے سے سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے۔ مبصرین اس کو کمیونسٹ نظریات کے حامل جزیرے کے ساتھ اوباما کے دور میں پیدا ہونے والی قربت پر کاری ضرب قرار دے رہے ہیں۔