.

امریکی ریاست ورجینیا میں انتہا پسندانہ کارروائی میں متعدد ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست ورجینیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز کالج ٹاون شارلٹس ول سفید فام قوم پرستوں کی ایک ریلی کے خلاف احتجاج کرنے والے پیدل افراد پر ایک شخص نے گاڑی چڑھا دی جس کے نتیجے میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔ پولیس نے کار سوار کو گرفتار کر لیا ہے ۔ واقعہ اس وقت پیش آیا، جب سفید فاموں کی ریلی کے خلاف احتجاج کرنے والے علاقہ خالی کر رہے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ "ہم شارلٹس ول ورجینیا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم ممکنہ طور پر سخت ترین الفاظ میں نفرت، عدم برداشت اور تشدد کے اس مظاہرے کی مذمت کرتے ہیں‘

پولیس نے ہفتے کی دوپہر کو شارلٹس ول میں ہونے والے اس اجتماع کو غیر قانونی اجتماع قرار دے دیا تھا۔ اور ریلی میں شریک افراد کو گھروں کو واپس جانے کو کہا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے موبائل فون سے بنائی گئی وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے، کہ نا معلوم گاڑی نے اپنے آگے جانے والے گاڑی کو پیچھے سے ٹکر ماری اور پھر گاڑی نے تیز رفتاری سے پیچھے ہٹتے ہوئے پیدل چلنے والوں کو لپیٹ میں لے لیا۔۔کچھ اور وڈیوز میں اسلحہ بردار اور ڈھال اٹھائے ہوئے مظاہرین ایک دوسرے پر مکے برسا رہے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق واقعے سے پہلے احتجاج کرنے والوں اور جوابی کارروائی کرنے والے مظاہرین کے درمیان تشدد کی متعدد جھڑپیں ہوئیں۔

ورجینیا کے گورنر، ٹیری مکالیف نے ٹوئٹر پر ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ اس لیے ضروری ہوگیا تھا، تاکہ شارلٹس ول میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے تشدد پھیلانے والوں کا توڑ کیا جاسکے‘۔