.

تیونسی صدر عورت کو مرد کے مساوی وراثت دلانے کے خواہاں

وراثت کوئی مذہبی نہیں، بلکہ بنی نوع انسان کا معاملہ ہے: تقریر میں دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونسی صدر باجی قائد السبسی نے خواتین کے قومی دن کے موقع پر ایک کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا ہے جو تمام شعبوں میں عورتوں اور مردوں کو مساوی حقوق دینے پر غور کرے گی۔

صدر باجی قائد السبسی نے اپنی تقریر میں مردوں اور خواتین کے درمیان مساوات کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ تیونس کے آئین میں بھی مرد وخواتین کے درمیان مساوات کی ضمانت دی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ وراثت میں مساوات سمیت تمام شعبوں میں خواتین اور مردوں کے درمیان برابری ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہم یکسانیت کی بات کرتے ہیں کیونکہ آئین اس کی ضمانت دیتا ہے تو پھر ہمیں اس سمت میں آگے بڑھنا ہوگا۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ’’وراثت کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ بنی نوع انسان کا معاملہ ہے۔اللہ اور اس کے رسول نے اس معاملے کو بنی نوع انسان کے فعل پر چھوڑ دیا ہے‘‘۔

تیونسی صدر نے وزیراعظم اور وزیر انصاف پر زور دیا ہے کہ وہ اشاعت نمبر 73 میں ترمیم کا جائزہ لیں۔اس کے تحت ایک تیونسی عورت ایسے کسی غیرملکی سے شادی نہیں کرسکتی ہے جس کے اسلامی عقیدے کو مفتی صاحب تسلیم نہ کرتے ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ تیونس کے آئین کا باب ششم عقیدے اور ضمیر کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے اور ریاست کو ان آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا ذمے دار ٹھہراتا ہے۔

واضح رہے کہ تیونس میں دوسرے مسلم ممالک کے مقابلے میں خواتین کو زیادہ حقوق حاصل ہیں لیکن وراثت یا ترکہ شریعت کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔اس کے تحت ایک مرد کو دو عورتوں کے مساوی ورثے میں سے حصہ دیا جاتا ہے۔