.

امریکا میں دائیں بازو کا شدت پسند بشار الاسد سے کیسے متاثر ہوا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست ورجینیا میں احتجاج کرنے والے مجمعے پر گاڑی چڑھا دینے والے شخص جیمس ایلکس کے فیس بک صفحے پر نازی رہ نما ایڈولف ہٹلر اور سبر "ننھے مینڈک" کی تصاویر پائی گئیں جو بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی نشانی بن گیا۔

تاہم امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق سب سے زیادہ دل چسپ بات یہ ہے کہ جیمس کے صفحے پر شامی صدر بشار الاسد کی عسکری وردی میں ایک تصویر موجود ہے جس کے نیچے تبصرے میں لکھا ہوا ہے " وہ شخص جو شکست دے دوچار نہیں ہوتا"۔

اخبار نے جن تصاویر کا ذکر کیا ہے اب وہ منظر عام پر نہیں ہیں۔ امریکی اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پہلو اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ "بشار اور امریکا میں اس دائیں بازو کے شدت پسند کے درمیان کوئی ربط ہے"۔ واضح رہے کہ بشار الاسد نے بھی اپنے عوام کے خلاف جنگ بھڑکا رکھی ہے جس کے نتیجے میں اب تک لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ اس سے کہیں زیادہ بے گھر ہو گئے ہیں۔

ہفتے کے روز ورجینیا کے کالج ٹاون شارلٹس ول میں سفید فام قوم پرستوں کی ایک ریلی کے خلاف احتجاج کرنے والے پیدل افراد پر ایک شخص نے گاڑی چڑھا دی تھی۔ اس کے نتیجے میں ایک 32 سالہ عورت ہلاک ہو گئی۔ پولیس نے کار سوار کو گرفتار کر لیا ہے۔ واقعہ سفید فام قوم پرستوں کی ریلی کے لیے اکٹھے ہونے والے مظاہرین اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں کے بعد پیش آیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "ہم نے ورجینیا کی صورت حال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ ہم سخت ترین الفاظ میں نفرت، عدم برداشت اور تشدد کے اس مظاہرے کی مذمت کرتے ہیں۔ اس میں کئی فریق ملوث ہیں"۔

یاد رہے کہ مذکورہ جھڑپیں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو دی جانے والی شدید دھمکیوں کے چند روز بعد سامنے آئی ہیں۔
ریپبلکن سینیٹر کورے گارڈنر کے مطابق ٹرمپ کا ردّعمل ناکافی ہے۔ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ "جنابِ صدر برائی کو برائی پکارنا ناگزیر ہے۔ یہ سفید فام نسل پرست ہیں اور یہ اندرونی دہشت گردی ہے"۔